بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

تعلقات ختم کرنے پر طلاق کو معلق کرنا


سوال

 میرے دو چچاؤں میں کسی وجہ سے تعلقات خراب ہیں،اب کچھ دن پہلے ان میں سے ایک کی بیٹی کی شادی ہورہی تھی تو اس وقت میں نے کہا :کہ"کہ چری دا ترہ دی وادہ تہ حاضر نہ شو نو زما بہ د دہ سرہ ختمہ یی او کہ می ورسرہ ختمہ نہ کڑہ نو زما خزہ بہ پہ ما طلاقہ یی" یعنی اگر یہ (فلاں) چچا اس شادی میں حاضر نہیں ہوا  تو میرا اس کے ساتھ  ختم ہوگااور اگر ختم نہیں کیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہوگی ،جبکہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ میں  پروگرامز میں اس کےپاس نہیں جاؤں گا اور نہ اس کے گھر جاؤں گا، اب سوال یہ ہے کہ میں تو اپنے اس چچا کے ساتھ فون پر رابطہ کرتا ہوں ،توکیا بیوی پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟نیز ابھی اس واقعہ کے بعد عدت گزری نہیں ہے؟

جواب

جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جائےتو اس کو طلاق معلق کہتے ہیں،طلاق معلق میں جب تک شرط نہ پائی جائے اس وقت تک طلاق واقع نہیں ہوتی لیکن جوں ہی شرط وجود میں آئے تو فورا طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ طلاق اور تعلیقِ طلاق کے مسائل میں عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور عرف میں الفاظ جن معانی میں استعمال ہوتے ہوں، وہی معنی مراد لیے جاتے ہیں۔ اور اسی عرفی مفہوم کی بنیاد پر شرعی حکم صادر کیا جاتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے یہ الفاظ کہے ہوں:"کہ چری دا ترہ دی وادہ تہ حاضر نہ شو نو زما بہ د دہ سرہ ختمہ یی او کہ می ورسرہ ختمہ نہ کڑہ نو زما خزہ بہ پہ ما طلاقہ یی" (اگر یہ (فلاں) چچا اس شادی میں حاضر نہیں ہوا  تو میرا س  کے ساتھ ختم ہوگا اور اگر ختم نہیں کیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہوگی )ان الفاظ سے چونکہ عرف کے مطابق یہی مراد ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھا جائے گا ،اور عرف میں  فون پر رابطہ کرنے کو بھی تعلق ہی سمجھا جاتا ہے،اس لیے فون پر رابطہ کرنے کی صورت میں بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے۔ لہذا شوہر پر عدت کے اندر اندر رجوع کرنا ہوگا۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط إتفاقا مثل أن يقول لإمرأته:إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوی الھندیة،کتاب الطلاق،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط و نحوہ،الفصل الثالث،ج:1،ص:488)

والعرف في الشرع له اعتبار … ‌لذا ‌عليه ‌الحكم قد يدار.(رد المحتار،باب المهر،مطلب فى السفر بالزوجة،ج:3،ص:147)

" وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل...(الهداية،كتاب الطلاق،باب الرجعة،ج:2،ص:254)


فتویٰ نمبر : 7167/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں