بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

جانور کو آدھے دودھ کے عوض پالنے کےلئےدینا


سوال

ایک شخص نے گابھن گائے خرید ی،جو دودھ بھی دیتی  تھی۔پھر وہ دوسرے شخص کو پالنے کےلئے دی،کہ آدھا دودھ استعمال کرو،اور اس کو پالتے رہو،تو کیا یہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟اوراس کابچہ کس کا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ ایک طرف سے محنت ہو اور دوسری طرف سے  اس کامعاوضہ تو اس کو اجارہ کہتے ہیں۔اور اجارہ میں اجرت اور مدت متعین ہونا ضروری ہے ۔

صورت مسؤلہ میں ایک شخص  کا دوسرے کو گائے آدھے دودھ کے عوض پالنے کے لئےدینا شرعا ًجائز نہیں، کیونکہ یہ اجارے کا معاملہ ہے جو اجرت اور مدت کی جہالت کی وجہ سے فاسد ہے، اجارہ فاسدہ کی صورت میں طے شدہ اجرت کی بجائےاس جیسے کام پر جتنی اجرت دینے کا رواج ہو، وہ کام کرنے والے  کا استحقاق ہوتاہےجسے اجرت مثل کہا جاتا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں پا لنے والےکواجرت مثل ملے گی۔گائے  اور اس کے منافع دودھ  بچہ  وغیرہ  سب مالک کے ہوں گے،اس طرح علاج معالجے اور چارے وغیرہ کے اخراجات بھی مالک پر ہوں گے۔نیز ایسے معاملے کے جوازکی یہ صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں:

۱۔ایک صورت یہ ہے کہ جانور پالنے والےکی اُجرت متعین کی جائے، تو اس صورت میں دودھ ،بچےوغیرہ سب مالک کے ہوں گےاورپالنےوالے کو  متعینہ اُجرت ملے گی۔

۲۔دونوں پیسے ملاکر جانور  خریدیں اس صورت میں ہر ایک اپنی مالیت کے بقدرجانور کامالک ہوگا،اور اسی طرح مالیت کے حساب سے دودھ اور بچوں میں بھی شریک ہوں گے

۳۔جانور کامالک آدھا حصہ آدھی قیمت پر  پالنے والے کو  بیچ کروہ پیسے معاف کردے تو  دونوں کے درمیان وہ جانور مشترک ہوجائے گا پھر دونوں اس جانور کے دودھ ،بچوں اور نفع نقصان میں برابر کے شریک ہوں گے ۔

 

 (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل... (و) تفسد (بعدم التسمية) أصلا أو بتسمية خمر أو خنزير (فإن فسدت بالأخيرين) بجهالة المسمى وعدم التسمية (وجب أجر المثل) يعني الوسط منه ولا ينقص عن المسمى لا بالتمكين بل (باستيفاء المنفعة) حقيقة كما مر (بالغاما بلغ) لعدم ما يرجع إليه ولا ينقص عن المسمى (رد المحتار علی الدرالمختار ،كتاب الإجارة،باب إجارة الفاسدة،ج:9 ،ص:66,64)

دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب الخامس عشرفي بيان ما يجوز من الإجارة وما لا يجوز،ج:4،ص:481)


فتویٰ نمبر : 3775/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں