بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

جماع کے غسل کرنے سے پہلے حیض کا آنا


سوال

 اگر کوئی عورت جماع کرے اور غسل کرنے سے پہلے ایام حیض شروع ہوجائیں  تو یہ عورت جماع والا غسل کرےگی یا حیض ختم ہوجانے کے بعد غسل کرےگی؟

جواب

 واضح رہے کہ جنابت کی حالت میں کسی عورت کو ماہواری آجائے تو اس پر غسلِ جنابت فرض نہیں رہتا اس لیے کہ غسلِ جنابت تو پاکی کے لیے ہوا کرتا ہے اور جب تک وہ عورت ایامِ حیض میں ہے تو پاک نہیں ہوسکتی، لہذا  ایامِ حیض میں عورت  غسلِ جنابت نہیں کرے گی، ایام حیض ختم ہونے پر غسل کرے گی ۔

 

المرأة إذا أجنبت ثم أدركها الحيض أو الحائض إذا أجنبتم طهرت حتى وجب عليها الاغتسال، فهذا الاغتسال يكون من الجنابة أو الحيض؟ حكي عن الشيخ الإمام الزاهد أبي محمد عبد الرحيم بن محمد الكرميني رحمه الله أنه كان يقول: اختلفت عبارات أصحابنا رحمهم الله: وظاهر الجواب أن الاغتسال يكون منهما جميعاً۔(المحیط البرھاني،كتاب الطھارۃ،الفصل الثالث في تعليم الاغتسال،ج:1،ص:87)


فتویٰ نمبر : 10467/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں