بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی میں تاخیر پر اضافی رقم کی شرط لگانا


سوال

میں نے دوست سے چالیس (40) ہزار روپے قرض لیے تھے اور میں نے کہا تھا کہ دو مہینے بعد ادا کروں گا۔ اب دو مہینے گزرنے کے بعد میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں نے دوست سے کہا کہ ایک مہینے کا وقت دے دو، ایک مہینے بعد ادا کر دوں گا، لیکن اب اس نے شرط لگائی ہے کہ ایک مہینے بعد پانچ ہزار اضافی دو گے۔ تو کیا یہ پانچ ہزار روپے اضافی کا مطالبہ درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض لیاجائے اتنی ہی مقدار قرض دار پر واپس کرنالازم ہے، اگر قرض کی واپسی میں قرض خواہ اضافہ کی شرط لگائے  تو وہ  سود ہوگا۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  پانچ ہزار روپے اضافی کی  شرط لگانا سود ہےاور سود کی لین دین سے دونوں کوبچنا لازم ہے۔

 

أمالذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض۔(بدائع الصنائع،كتاب القرض،فصل في شرائط ركن القرض،ج:7،ص:395)


فتویٰ نمبر : 3781/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں