بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نقل کے لئے چوکیدار کو پیسے دینا


سوال

 ہمارے سکول میں بعض لڑکے چوکیدار کو نقل فراہم کرنے کے لئے پیسے دیتے ہیں تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ امتحانات میں نقل کرنا انتہائی بُرا عمل ہے؛ کیوں کہ امتحان خواہ کسی بھی مرحلےکا ہو اس کا بنیادی مقصد امتحان دینے والے کی صلاحیت  کو جانچنا ہوتا ہے، امتحان کے ذریعے شرکاءِ امتحان کے درمیان اعلیٰ اور ادنیٰ مراتب قائم کیے جاتے ہیں،  جب کہ امتحان میں نقل کرنے سے  یہ مقصد فوت ہو جاتا ہے ، اسی طرح  نقل کرنے والا جھوٹ، دھوکہ، خیانت، حق تلفی جیسے کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے،  اس وجہ سے امتحانات میں نقل کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اورنقل فراہم کرنے کے لئے کسی کو پیسے دینا بھی جائز نہیں ہےکیونکہ یہ اجرت على المعاصي اورتعاون علی الإثم(گناہ پر کسی  دوسرے کی مدد کرنے اور اس پر اجرت لینے) کے زمرے میں آنے كی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں چوکیدار کو نقل فراہم کرنے کے لئے پیسے دینا جائز نہیں ۔

 

 قال الله تعالى﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ  ﴾ (المائدہ/2)

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔(صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق،رقم الحديث: 6095)

  عن أبي هريرةأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا".(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب قول النبي صلى الله عليه تعالى وسلم: من غشنا فليس منا،ج:1، ص:99،رقم الحديث:101)

ولا تصح الإجارة للمعاصي، كالغناء۔)العناية،كتاب الإجارة،باب الإجارةعلى المعاصي،ج:2،ص:436)

لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن، لأن ‌الغش ‌حرام۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،مطلب في جملة  ما يسقط به الخيار،ج:5،ص:47)


فتویٰ نمبر : 6252/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں