بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

حجرے میں جمعہ کی نماز ادا کرنا


سوال

ہمارے محلے کی مسجد کو  تعمیر کی وجہ سے  شہید کر دیا گیا ہے تو اب ہم محلے والے کسی حجرے میں جمعہ کی نماز ادا کرسکتے ہیں  یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  شہر، فنائے شہر یا قصبہ میں جمعہ کی نماز کے لئے  مسجد کا ہونا شرط نہیں ۔ لہٰذا امام کے علاوہ کم از کم تین بالغ مرد ہوں تو   کہیں بھی جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں محلے والے حجرے میں جمعہ کی نماز ادا کرسکتے ہیں ۔

 

وفي الفتاوی الغیاثیة: لوصلی الجمعة في قریة بغیر مسجد جامع والقریة کبیرة  لها قری وفیها وال وحاکم جازت الجمعة بنوا المسجد أو لم یبنوا … والمسجد الجامع لیس بشرط، ولهذا أجمعوا علی جوازها بالمصلی في فناء المصر۔(حلبي كبيري،كتاب الصلاۃ،فصل في صلاۃ الجمعۃ،ص:551)


فتویٰ نمبر : 10466/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں