بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بیع کے بعد زمین کی واپسی پر اضافی رقم لینے کا حکم


سوال

ایک شخص نے کسی سے چھتیس لاکھ(3600000) روپے میں زمین خریدی۔ رقم بھی اسی وقت مکمل طور پر ادا کر دی گئی اور فریقین کی رضامندی سے دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں مذکورہ زمین کا انتقال بھی مشتری کے نام کر دیا گیا ۔ تاہم چونکہ اس وقت اس زمین پر بائع کی فصل کھڑی تھی، تو بائع نے کہا کہ فصل کاٹنے کے بعد وہ زمین مشتری کے حوالے کر دے گا۔اب ایک سال گزر چکا ہے، اور بائع یہ کہتا ہے کہ وہ اپنی زمین فروخت نہیں کرتا، اس لیے وہ مشتری کو اس کی ادا کردہ رقم کے ساتھ دو لاکھ پچاس ہزار روپے بطورِ تبرع و احسان دےرہا ہے۔اب دریافت طلب امریہ ہے کہ کیا مشتری کے لیے شریعت کی رو سے اس اضافی رقم (دو لاکھ پچاس ہزار روپے) کو لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

جب بیع مکمل ہو جائے تومبیع مشتری کی ملکیت بن جاتی ہے اور بائع (فروخت کنندہ) کو اسے واپس لینے کا حق نہیں رہتا، الا یہ کہ دونوں فریق رضامندی سے معاہدہ فسخ کرنا چاہیں ،تو باہمی رضامندی سے بیع کو ختم کرسکتے ہیں جسے اقالہ کہتے ہیں۔ نیز واضح رہے کہ اقالہ ثمن اول (پہلی قیمت )پر ہوگا،البتہ اگربائع اپنی طرف سے مشتری کوکچھ زیادہ بطور احسان وتبرع  دے تو گنجائش ہے ۔

لہذا  صورت مسؤلہ میں جب زمین کی قیمت مکمل ادا کر دی گئی اور انتقال مشتری کے نام ہو گیا، تو شرعی طور پرزمین مشتری کی ملکیت بن گئی۔ بائع کا بعد میں یہ کہنا کہ وہ زمین فروخت نہیں کرتا، شرعی لحاظ سے معتبر نہیں ہے، کیونکہ بیع مکمل ہو چکی ہے۔اب اگر بائع  معاہدہ فسخ کرتا ہے اور مشتری اس پر راضی ہو، تو یہ اقالہ ہو گا ۔اقالہ کی صورت میں، اصولی طور پر، بائع پرمشتری کو صرف اصل قیمت واپس کرنا ہوتا ہے ،البتہ اگر بائع نے زمین کی قیمت واپس کر دی ہے اور اضافی رقم بطورِ تبرع واحسان بغیرکسی شرط یا مطالبے کے، اپنی خوشی سے دے رہا ہو، تو مشتری کے لیے وہ اضافی رقم لینے کی گنجائش ہے۔

 

 (فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول. ( الهداية،كتاب البيوع،باب الإقالة،ج:3ص:55)

وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب البيوع،كيفية انعقاد البيع،ج:3 ص:3 23)

وثمرة هذا الاختلاف إذا تقايلا ولم يسميا الثمن الأول أو سميا زيادة على الثمن الأول أو أنقص من الثمن الأول، أو سميا جنسا آخر سوى الجنس الأول قل أو كثر أو أجلا الثمن الأول فالإقالة على الثمن الأول في قول أبي حنيفة – رحمه الله:وتسميةالزيادة و النقصان والأجل والجنس الآخر باطلة سواء كانت الإقالة قبل القبض أو بعدها، والمبيع منقول أو غير منقول لأنها فسخ في حق العاقدين، والفسخ رفع العقد، والعقد رفع الثمن الأول فيكون فسخه بالثمن الأول ضرورة؛ لأنه فسخ ذلك العقد، وحكم الفسخ لا يختلف بين ما قبل القبض وبين ما بعده وبين المنقول وغير المنقول، وتبطل تسمية الزيادة والنقصان والجنس الآخر والأجل، وتبقى الإقالة صحيحة؛ لأن إطلاق تسمية هذه الأشياء لا يؤثر في الإقالة؛ لأن الإقالة لا تبطلها الشروط الفاسدة وبخلاف البيع؛ لأن الشرط الفاسد إنما يؤثر في البيع؛ لأنه يمكن الربا فيه.والإقالة رفع البيع فلا يتصور تمكن الربا فيه فهو الفرق بينهما. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ،كتاب البيوع ،باب الإقالة ج:5ص: 306)


فتویٰ نمبر : 3774/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں