بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نمازی کے لیے آنکھ کے اشارے سے جوا ب دینا


سوال

 اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور کسی کو کچھ پوچھنا ہو  اور وہ  نمازی سے کہے کہ ہاں کے جواب میں آنکھیں بند کرو اور نہ کے جواب میں بند نہیں کرنا، کیا نمازی  کے لیے اس طرح کرنا جائز  ہے ؟

جواب

نماز اللہ تعالی کے ساتھ مناجات ہے، اس لیے نمازی  کو چاہیے کہ  ہمہ تن  اللہ تعالی  کی طرف   متوجہ ہو، نماز میں جس  طرح قلبی  خشوع  کا ہونا  ضروری ہے بالکل اسی طرح  اعضاء کو بھی پر سکون  رکھنا  چاہیے ، آپ ﷺ نے نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنےاور کسی دوسری جانب متوجہ ہونے  کو شیطان کا فعل  قرار  دیا ہے ، چنانچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی  ہیں؛ کہ میں نے رسول اللہﷺ سے آدمی کے نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہونے کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایسا عمل ہے ، جس کے ذریعے شیطان بندے کی نماز کا ثواب چھین لیتاہے۔

  صورت مسئولہ میں اگر   ضرورت  کے وقت  کوئی نمازی  سے کسی بات کا جواب پوچھے اور  وہ  آنکھ کے اشارے  سے  جواب دیدے  ،تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، لیکن کراہت سے خالی نہیں اس لیے نماز کے  آداب  کی رعایت رکھتے ہوئے  اس عمل احتراز کرنا چاہیے ۔

 

عن عائشةرضي الله عنها قالت: «سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الالتفات في الصلاة فقال: هو ‌اختلاس، ‌يختلسه ‌الشيطان من صلاة العبد.»(صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب الإلتفات في الصلاة،ج:1،ص:243)

    و كذا لو طلب من المصلي شيء فأشار بيده أو برأسه بنعم أو بلا لا تفسد صلاته ،ذكره في الغاية في فصل ما يكره للمصلي.( تبيين الحقائق ، كتاب الصلاة ، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها ،ج:1، ص: 395)


فتویٰ نمبر : 10471/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں