بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

محض ڈرانے کےلیےکسی پرگولی چلاکر قتل کرنا


سوال

اگرکوئی شخص دوسرے کوصرف ڈرانے کے لیے اس پر فائر کرےلیکن وہ گولی اس کو لگ جائےاور وہ مرجائےتوکیایہ قتل عمد میں داخل ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قصداً عمداً، جان بوجھ کر  آلہ قتل کے ذریعےکسی کو ناحق  مارناقتلِ عمد کہلاتا ہے،قتل  عمد میں آلہ قتل کی شرط ا س لیے لگائی گئی ہے، کہ قصد اور ارادے کا تعلق دل سے ہے اوراس کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا، اس لیے حکم ظاہر پر لگتا ہے، اور آلہ قتل کا استعمال  قصد اور ارادے پر  دلیل ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکوئی شخص دوسرے کو محض ڈرانے کے لیےاس پر فائر کرے لیکن وہ گولی اس کو لگ کر مر جائے، تواس کا  یہ فعل قتل عمد    کے زمرے میں آتا ہے ،کیونکہ آلہ قتل(بندوق) کا استعمال اس کے قصد پرظاہری دلیل ہے۔چنانچہ مقتول کے ورثا کو قصاص کے مطالبے کاحق ہے، البتہ اجرائے قصاص کا اختیارصرف حاکم یا اس کی طرف سے مقررکردہ نائب کو حاصل ہے، عوام کو از خود قصاص لینے کا حق حاصل نہیں۔

 

 (‌عمد ‌وهو ‌أن ‌يتعمد ‌ضربه) أي ضرب الآدمي في أي موضع من جسده (ب) آلة تفرق الاجزاء مثل (سلاح) ومثقل لو من حديد، جوهرة(ومحدد من خشب) وزجاج (وحجر). (الدرالمختار شرح تنويرالأبصار، كتاب الجنايات، ج:10، ص:155,156)

(‌قوله ‌بآلة ‌تفرق ‌الأجزاء) إنما شرط فيها ذلك لأن العمد هو القصد ولا يوقف عليه إلا بدليله، ودليله استعمال القاتل آلته فأقيم الدليل مقام المدلول، لأن الدلائل تقوم مقام مدلولاتها فى المعارف الظنية الشرعية منح، وهو صريح في أنه يجب القصاص وإن لم يذكر الشهود العمد وبه صرح الأتقاني. (ردالمحتارعلى الدرالمختارشرح تنويرالأبصار، كتاب الجنايات، ج: 10، ص:155,156)

[‌فصل ‌في ‌شرائط ‌جواز إقامة الحدود]وأما شرائط جواز إقامتها فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام.(بدائع الصنائع،کتاب الحدود،فصل وأماشرائط جوازإقامتها،ج:9،ص:250)


فتویٰ نمبر : 6248/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں