بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

فاریکس (Forex)ٹریڈنگ کاروبار کی شرعی حیثیت


سوال

میں اس وقت فاریکس (Forex) ٹریڈنگ کے بارے میں سیکھ رہا ہوں۔ فاریکس ایک بین الاقوامی مارکیٹ ہے جہاں لوگ مختلف ممالک کی کرنسیوں کے درمیان تجارت کرتے ہیں، جیسے ڈالر اور یورو، یا پاؤنڈ اور ین۔ یہ تجارت انٹرنیٹ کے ذریعے کی جاتی ہے اور لوگ اس میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے منافع حاصل کرتے ہیں۔

اس مارکیٹ میں دو قسم کے اکاؤنٹس ہوتے ہیں:

نارمل اکاؤنٹ (Normal Account): اس اکاؤنٹ میں سود (Swap/Interest) شامل ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص رات بھر کے لیے پوزیشن کھلی رکھتا ہے، تو یا تو اسے سود دینا پڑتا ہے یا لینا پڑتا ہے۔ اس طرح کا اکاؤنٹ اسلامی نقطۂ نظر سے حرام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسلام میں سود (ربا) سختی سے منع ہے۔اسلامی اکاؤنٹ (Islamic Account): یہ خاص اکاؤنٹ مسلمانوں کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں کوئی سود شامل نہیں ہوتا، نہ دیا جاتا ہے اور نہ لیا جاتا ہے۔ اس اکاؤنٹ کو "Swap-Free Account" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اکاؤنٹ اسلامی اصولوں کے مطابق سمجھا جاتا ہے، اور زیادہ تر مسلمان اسی اکاؤنٹ کے ذریعے تجارت کرتے ہیں۔میں نے اس بارے میں استخارہ بھی کیا تھا کہ یا اللہ اگر اس کام میں میرے لیے بھلائی ہو تو اسے میرے لیے آسان فرما دے اور مجھے اس سے محبت عطا فرما، اور اگر میرے لیے اس میں بھلائی نہ ہو تو اسے میرے لیے مشکل بنا دے اور میرے دل کو اس سے پھیر دے۔اور ایک سال کے بعد میرے لیے یہ کام آسان ہوگیا اور مجھے اس سے محبت بھی ہوگئی۔میں چاہتا ہوں کہ یہ تجارت حلال طریقے سے کروں، سود سے پاک اکاؤنٹ استعمال کروں، اور جوئے یا خطرناک طریقوں سے بچوں۔

براہ کرم مجھے بتائیں کہ اگر میں اسلامی اکاؤنٹ استعمال کروں اور تجزیے، اصولوں اور حلال تجارت کے مطابق کام کروں تو کیا یہ تجارت حلال ہے؟

جواب

واضح رہے کہ خرید و فروخت کے معاملات میں شرط یہ ہے کہ جن اشیاء کی خرید وفروخت  ہو رہی ہو معاملہ طے پاتے وقت ان کا وجود قطعی ویقینی ہو اور ان کی معدومیت (ناپیدگی) کا کوئی شائبہ نہ ہو، اسی طرح مبیع معلوم و متعین ہواور مبیع  آگے فروخت کرنے سے پہلے اس  کو باقاعدہ   قبض کر کے اپنے ضمان اور تحویل میں لیا جائے اور اگر خریدی ہوئی چیز مشاع (مشترک غیر منقسم) ہو تو اس میں باقاعدہ افراز  ہو ، نیز یہ کہ مختلف ممالک کی کرنسیوں کے باہمی تبادلہ  میں شرط یہ ہے کہ مجلس عقد میں احد البدلین(دونوں میں سے ایک) پر قبضہ ہو جائے چنانچہ دونوں میں  سے کسی ایک پر بھی اگر قبضہ نہ ہو تو  بیع ناجائز ہوگی۔

 فاریکس ٹریڈنگ میں شرعی لحاظ سے درج ذیل  قباحتیں پائی جاتی ہیں  :

(1)اس میں جن اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے ان کا وجود قطعی اور یقینی نہیں ہوتا، خریدار جو چیز خریدتا ہے اسے کوئی علم نہیں ہوتا کہ وہ چیز حقیقت میں بائع (فروخت کنندہ )کے پاس موجود ہے یا نہیں اگر موجود ہے تو کہاں اور کتنی مقدار میں موجود ہے چونکہ خریدار کا مقصد اشیاء خریدنا نہیں ہوتا بلکہ   ریٹ کے اُتار چڑھاؤ سے ہونے والے نفع کا حصول ہوتا ہے اس لئے خریدار اشیاء کے موجود ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا جبکہ شرعاً ان کاموجود ہونا ضروری ہےلہذا فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ کیے جانے والے معاملات میں مبیع معدوم کا قوی امکان پایا جاتا ہے۔

(2)مالی معاملات میں جہاں کہیں اشیاء یا خدمات کا حقیقی وجود نہ ہو اور محض کسی فرضی چیز کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی جائے تو یہ قمار (سٹہ) کے حکم میں داخل ہو کر ناجائز ٹھہرتا ہے اسی طرح جس معاملہ میں نفع و نقصان کا مدار کسی موہوم اور متردد واقعہ پر ہو وہ بھی قمار میں داخل ہے۔ Forex کا بھی یہی معاملہ ہے کہ یہاں کسی غیر یقینی اور فرضی مبیع کا نام لے کر سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور نفع و نقصان کا مدار قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ  پر ہوتا ہے جو ایک موہوم اور متردد صورتحال ہے اس لیے اس کاروبار میں  قمار کابھی قوی امکان  ہے جو نص صریح سے حرام ہے۔

(3) Forexٹریڈنگ میں  عموما مبیع موجود نہیں ہوتا تاہم اگر ایسی چیز خریدی جائے جس کا حقیقی وجود ہو تو خریدار کا آگے فروخت کرنے سے پہلے اس پر قبضہ ضروری ہے اور چونکہ اس مبیع کا بائع کی ملکیت میں آنا مشکل ہے کیو نکہ عموما لوگ بیع و شراء صرف قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ  کے ذریعہ نفع اٹھانے کے لیے کرتےہیں ان کا مقصد مبیع کا حصول نہیں ہوتا اسی وجہ سے بغیر قبضہ کیے آگے فروخت کردیتے ہیں لہذا یہ بیع قبل القبض کی قباحت سے بھی خالی نہیں اور بیع قبل القبض ناجائز ہے۔

 (4)مختلف ممالک کی کرنسیوں کے باہم تبادلہ کے وقت مجلس عقد میں احد البدلین (دونوں میں سے ایک) پر قبضہ ضروری ہے ورنہ عقد "بیع الکالی بالکالی" کے زمرہ میں داخل ہو کر ناجائز ہوتا ہے، Forexٹریڈنگ میں  جب کرنسی خریدی جاتی ہے تو کسی جانب سے بھی پورا قبضہ نہیں ہوتا اس لیے یہ بھی ناجائز ہے۔

الغرض: Forex ٹریڈنگ کے ذریعہ  کاروبار قمار (سٹہ)، بیع المعدوم(غیر موجود شئی کی بیع)، بیع قبل القبض (قبضہ سے پہلےمبیع آگے فروخت کرنا) اور بیع الکالی بالکالی(قرض کا قرض کے بدلے بیع)پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے  اور اس میں سرمایہ کاری شرعا جائز نہیں اس لیے مسلمانوں پر اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔

 

قال الله تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔(المائدۃ:5/90)

يقول تعالى: ناهيا عباده المؤمنين عن تعاطي الخمر والميسر وهو القمار... قال: الميسر هو القمار. ‌وقال ‌الضحاك، ‌عن ‌ابن ‌عباس، ‌قال: الميسر هو القمار، كانوا يتقامرون في الجاهلية إلى مجيء الإسلام، فنهاهم الله عن هذه الأخلاق القبيحة.(تفسير ابن كثير، آیة:9093/، ج:2، ص:126/127)

وعن ابن عمر: أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ‌بيع ‌الكالئ بالكالئ۔(مشکاۃ المصابیح،باب المنھي عنھا من البیوع،الفصل الثاني،رقم الحدیث:2863)

(ومنها) أن يكون مقبوضا في مجلس السلم لأن المسلم فيه دين والإفتراق لا عن قبض رأس المال يكون افتراقا عن دين بدين، وإنه منهي عنه، لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «نهى عن ‌بيع ‌الكالئ بالكالئ» أي النسيئة بالنسيئة،(بدائع الصنائع،كتاب البيوع،فصل في شرائط الركن،ج:5،ص:202)

وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها): أن يكون موجودا فلا ينعقد ‌بيع ‌المعدوم،(بدائع الصنائع،کتاب البیوع،فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ،ج:5،ص:138)

وإذا عرفت المبيع والثمن فنقول ‌من ‌حكم ‌المبيع إذا كان منقولا أن لا يجوز بيعه قبل القبض،(الفتاوى الهندية،الفصل الثالث في معرفة المبيع والثمن،كتاب البيوع،ج:3،ص:1) 


فتویٰ نمبر : 3783/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں