بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کا چار کی بجائے پانچ رکعت پڑھنا


سوال

اگر امام ظہر کے نماز میں  4 رکعت کی  بجائے 5 رکعت  پڑھ لے  اور چوتھی رکعت میں قعدہ نہیں کیا تھا اور سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے یا کوئی اور بتائےتو نماز ہو جائیگی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی؟

جواب

  واضح رہے کہ اگر امام چوتھی رکعت کے قعدہ میں بیٹھنے کےبعد پانچویں رکعت کے لیےغلطی سے کھڑا ہوگیا تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ  جب تک  وہ پانچویں رکعت کا سجدہ  نہ کرلے قعدہ کی طرف واپس لوٹ آئےاورسجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے، اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا ہو تو اب اس کے ساتھ چھٹی رکعت بھی ملادے اور آخر میں سجدہ سہو کرلینے سے نماز ہوجائے گی، چار رکعت فرض اور دو نفل ہوجائے گی۔ اوراگر امام نےچوتھی رکعت پر قعدہ نہیں کیا تھا اور پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو پانچویں رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے واپس قعدہ میں آجائے، اور سجدہ سہو کرکے نمازمکمل کرلے، اوراگر پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلیا تو فرض نمازباطل ہوجائے گی ،اب اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق نماز باطل ہوجائیگی اوردوبارہ پڑھنا لازم ہوگا ۔

 

رجل صلى الظهر خمساً وقعد في الرابعة قدر التشهد إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة أنها الخامسة عاد إلى القعدة وسلم، كذا في المحيط. ويسجد للسهو، كذا في السراج الوهاج. وإن تذكر بعدما قيد الخامسة بالسجدة أنها الخامسة لايعود إلى القعدة و لايسلم، بل يضيف إليها ركعةً أخرى حتى يصير شفعاً ويتشهد ويسلم، هكذا في المحيط. ويسجد للسهو استحساناً، كذا في الهداية. وهو المختار، كذا في الكفاية. ثم يتشهد ويسلم، كذا في المحيط. والركعتان نافلة ولا تنوبان عن سنة الظهر على الصحيح، كذا في الجوهرة النيرة ... وإن لم يقعد على رأس الرابعة حتى قام إلى الخامسة إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة عاد إلى القعدة، هكذا في المحيط. وفي الخلاصة: ويتشهد ويسلم ويسجد للسهو، كذا في التتارخانية. وإن قيد الخامسة بالسجدة فسد ظهره عندنا۔(الفتاوىٰ الهندية،كتاب الصلاة،باب سهو الإمام يوجب عليه ومن خلفه السجود،ج:1،ج:129۔)


فتویٰ نمبر : 10457/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں