بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

داڑھی کتروانے والے کی امامت


سوال

ہمارے محلہ میں ایک مسجد ہےاس کا امام ہرجمعرات کے دن گھرجاتاہے، اوراس کی جگہ ایک حافظ قران جو داڑھی کٹواتا ہے وہ امامت کرا تاہے تو کیا اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ داڑھی رکھنا ہرمسلمان پر واجب ہےاور داڑھی منڈوانا حرام ہے،اسی طرح ایک مٹھی سے کم رکھنا بھی نا جائز ہے،لہذا ایسا شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو کر فساق کے زمرے میں شمار ہوگا  جس کو  مستقل امام بنانا صحیح نہیں،ہاں اگر کبھی کبھار ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھی جائےتو نماز ہوجاتی ہےاور انفرادا نماز پڑھنے سے ایسے شخص کی اقتداء  میں نماز پڑھنا  بہتر ہے،البتہ جہاں نیک    اور متشرع امام میسر ہو تو پھر ایسے شخص کے پیچھے  نماز پڑھنے سے گریز کرنا چاہے۔لہذا صورت مسئولہ میں اگر حافظ قرآن مٹھی سے کم داڈھی  کاٹتا ہو تو اس کو مستقل امام بنانا درست نہیں البتہ کبھی کبھار اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست ہے۔

 

صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي۔(الدر المحتار على الدر المحتار،كتاب الصلاة،باب الإمامة،ج:1،ص:562)


فتویٰ نمبر : 10458/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں