بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بھتیجےکے ساتھ نکاح کرنا


سوال

عائشہ نے اپنی دادی  دوشالہ کا  دودھ پیا تھا ، اب وہ اپنے چچا زاد بھائی علی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے ،کیا ازروئے شریعت اس کے لیے اس طرح نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر کوئی بچی مدتِ رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو اس سے حرمتِ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے دودھ پلانے والی کے اصول و فروع اس پر حرام ہو جاتے ہیں۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی عائشہ نے ایامِ رضاعت میں اپنی دادی کا دودھ پیا ہو، تو اس کا چچا اس کا رضاعی بھائی ہے اور چچا کا بیٹا علی اس کا رضاعی بھتیجا  ہے، اور  رضاعی بھتیجے کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ لہٰذا  عائشہ کااپنے چچا زاد بھائی علی سے نکاح کرنا ازروئے شریعت جائز نہیں ۔

 

‌يحرم ‌على ‌الرضيع ‌أبواه ‌من ‌الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا.(الفتاوى الهندية،كتاب الرضاع ج:1ص:343)


فتویٰ نمبر : 7169/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں