بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

فتاوی عثمانیہ میں مذکور ایک مسئلہ پر اشکال کا جواب


سوال

مالِ زکاۃ سے قرض کی منہا کرنےکے حوالے سے فتاوی عثمانیہ ،جلد3،صفحہ 377پر مذکور ایک فتوی منسلک ہے ،جس سے معلوم ہوتاہے کہ مختلف انواع کا مال زکاۃ ہونے کی صورت میں قرض کی رقم اس مال کے مجموعہ سے منہا کی جائے گی ۔اور اس میں ہدایہ کا جو جزئیہ لکھاگیاہے وہ اس پر صریح نہیں ہے اور تلاش کے باوجود صریح جزئیہ کتب فقہ میں نہیں ملا۔البتہ درج ذیل جزئیات کتب فقہ میں  ملی ہیں جو بظاہرمنسلک فتوی کے خلاف

في الدرالمختار مع رد المحتار(2/264، ط:ایچ ایم سعید):

ولو له نصب صرف الدین لأیسرهما...قال ابن عابدین تحته:(قوله: ولو له نصب إلخ) كأن يكون عنده دراهم ودنانير وعروض التجارة وسوائم يصرف الدين إلى الدراهم والدنانير ثم إلى العروض ثم إلى السوائم.

وفي البحر الرائق(2/358، ط:المکتبة الحقانیة،پشاور):

وذکر الشارح وغیرہ :إن کان للمدیون نصب یصرف الدین إلی الأیسر قٖضاء،فیصرف إلی الدراہم والدنانیر ثم إلی عروض التجارۃ ثم إلی السوائم.

وفي تبیین الحقائق للزیلعي(1/255):

‌وإن ‌كان ‌ماله ‌أكثر من الدين زكى الفاضل إذا بلغ نصابا لفراغه عن الدين، وإن كان له نصب يصرف الدين إلى أيسرها قضاء. مثاله: إذا كان له دراهم ودنانير، وعروض للتجارة وسوائم من الإبل، ومن البقر والغنم، وعليه دين فإن كان يستغرق الجميع فلا زكاة عليه، وإن لم يستغرق صرف إلى الدراهم والدنانير أولا إذ القضاء منهما أيسر؛ لأنه لا يحتاج إلى بيعهما؛ ولأنه لا تتعلق المصلحة بعينهما؛ ولأنهما لقضاء الحوائج، وقضاء الدين منها؛ ولأن للقاضي أن يقضي الدين منهما جبرا، وكذا للغريم أن يأخذ منهما إذا ظفر بهما، وهما من جنس حقه فإن فضل عنهما الدين أو لم يكن له منهما شيء صرف إلى العروض؛ لأنها عرضة للبيع بخلاف السوائم؛ لأنها للنسل والدر والقنية فإن لم يكن له عروض أو فضل الدين عنها صرف إلى السوائم...الخ

ان عبارات میں تو اس بات کی صراحت ہے کہ قرض پہلے ایسے مال سے ادا کیا جائے گا جس کی ادائیگی آسان ہو،جیسے آج کے دور میں روپیہ ،پیسہ وغیرہ، جس کو زیلعی کی عبارت میں مثال کے ساتھ بھی واضح کیاگیاہے ،جب کہ منسلک فتوی اور بعض دیگر اردو فتاوی میں مختلف مال زکاۃ کے مجموعہ سے قرض منہا کرنے کا حکم لگایاگیاہے ۔

اور ان دونوں مسئلوں میں حکم کے لحاظ سے بھی غیر معمولی فرق ہے ،کیوں کہ ایسا آدمی جس پر ایک لاکھ روپیہ قرض ہے ،اور اس کے پاس  مال زکاۃ میں مثلا:دو تولہ سونا اور ایک لاکھ روپیہ ہے تو مذکو رہ عبارات کے مطابق وہ ایک لاکھ روپیہ سے قرض ادا کرے گا ،اس کے بعد صرف اس کے پاس سونا بچے گا جو نصاب سے کم ہے ،اس صورت میں اس پر زکاۃ  فرض نہیں رہےگا ،اور اس میں اس کےلیے آسانی بھی ہے ۔جب کہ منسلک فتوی کے مطابق مجموعہ سے قرض منہا کرنے کی صورت میں بھی  وہ شخص صاحب نصاب رہےگااور اس پر زکاۃ  فرض ہوگی ۔

ان دونوں میں سے کونسی بات صحت کے زیادہ قریب ہے ؟اور ان دونوں مسئلوں میں تطبیق کی کیاصورت ہوسکتی ہے ؟جواب عنایت فرماکرممنون ومشکور ہوں  گا۔

جواب

اگر کسی شخص پر ایک لاکھ روپیہ قرض ہو اور اس کے پاس مال زکاۃ میں مثلادو تولہ سونااور ایک لاکھ روپیہ ہیں،تو وہ ایک لاکھ روپیہ سے قرض اداکرے گااورباقی دوتولہ سونا چونکہ زکوۃ کے  نصاب کو نہیں پہنچتا،لہذا اس پر زکوۃلازم  نہیں ہوگی ۔

یہ مسئلہ فتاوی عثمانیہ میں مذکور مسئلہ سے تعارض نہیں  رکھتا،  کیونکہ  فتاوی عثمانیہ میں مذکور مسئلہ کی نوعیت  سائل کے بیان کردہ  مسئلہ سے مختلف ہے ، کیونکہ وہاں سوال مطلق قرض سے متعلق ہے،جس میں سونے ،چاندی اور نقدی وغیرہ کی کوئی تفصیل نہیں، اس لیے جواب بھی اس کے مطابق دیاگیاہے، جب کہ سائل کے سوال میں ایک مخصوص صورتحال کے متعلق سوال کیا گیاہے تو اس کے مطابق یہی جواب صحیح ہے جو سائل نےبیان کیاہے ۔

 

(قوله: ‌ولو ‌له ‌نصب إلخ) كأن يكون عنده دراهم ودنانير وعروض التجارة وسوائم يصرف الدين إلى الدراهم والدنانير ثم إلى العروض ثم إلى السوائم كما في البحر.(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:264)


فتویٰ نمبر : 10454/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں