بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
نکاح سےپہلے کسی کام کے کرنے پر طلاق معلق کرنا
سوال
اگر کوئی شخص یہ بات کہے کہ" اگر میں نے اس چھوٹے بھائی کو دوبارہ مارا تو مجھ پر میری ہونے والی بیوی کو طلاق ہے "۔اس کے بعد اس نے بھائی کو کئی مرتبہ ماراہے ،اب گھر میں اس کے نکاح کی بات ہورہی ہے ،معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طلاق معلق سے اس نکاح پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں ؟
جواب
اگر کوئی شخص طلاق کو کسی فعل کے ساتھ معلق کرے تو اس فعل کے کرنے پر طلاق واقع ہوجاتی ہے ،البتہ طلاق کی تعلیق درست ہونے کےلیے ضروری ہے کہ عورت شوہر کے نکاح میں ہو یا تعلیق طلاق میں نکاح کی طرف اضافت کی ہو،اگر نہ تو نکاح ہواہواور نہ ہی نکاح کی طرف اضافت ہو تو اس صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے یہ الفاظ بولے "اگرمیں نے اس چھوٹے بھائی کو دوبارہ مارا تومجھ پر میری ہونے والی بیوی کو طلاق ہے "، تو ان الفاظ کے ساتھ اس نے طلاق کی نسبت نکاح کی طرف کرکے اس یمین( مجھ پر میری ہونے والی بیوی کو طلاق ہے )کوشرط (اگر میں نےاس چھوٹے بھائی کو دوبارہ مارا)کے ساتھ مشروط کیا، اور اس کے بعد چھوٹے بھائی کوکئی مرتبہ مارا بھی،تو شرط واقع ہونے کی وجہ سے یمین معلق ہوگیا،لہٰذا اب نکاح کرتےہی حانث ہوجائے گا،اوراس کی ہونے والی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی ۔
تاہم اگر یہی شخص دوبارہ اسی عورت سے نکاح کرناچاہے توعقد جدیدکے ساتھ نکاح کرسکتاہے ،لیکن آئندہ کےلیے تین کی بجائے دو طلاقوں کا مالک ہوگا۔البتہ اگر کسی اورعورت سے نکاح کرےتو تین طلاقوں کا مالک ہوگا۔
(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق، أو الاضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق) وكذا كل امرأة، ويكفي معنى الشرط إلا في المعينةباسم أو نسب أو إشارة، فلو قال: المرأة التي أتزوجها طالق تطلق بتزوجها ولو قال هذه المرأة الخ لا لتعريفها بالاشارة، فلغا الوصف.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ص:220)
إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق. وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق، ج1: ص:457)
ثم إن وجد الشرط في ملكه انحلت اليمين ووقع الطلاق " لأنه وجد الشرط والمحل قابل للجزاء فينزل الجزاء ولا تبقى اليمين لما قلنا.(الهداية، کتاب الطلاق، باب الأیمان في الطلاق، ج:1، ص:244)
ولو قال: كل امرأة أتزوجها إن دخلت الدار فهي طالق قدم المؤخر فمن تزوج قبل الدخول لم تطلق ومن تزوج بعده طلقت ويجعل الدخول شرط الانعقاد وصار الشرط الأول شرط الحنث وتقديره إن دخلت الدار فكل امرأة أتزوجها فهي طالق.(الفتاوى الهندية، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوہ، الفصل الثاني في تعلیق الطلاق بکلمة کل وکلما، ج:1، ص:418)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں