بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تخت پوش کا خراب ہوجانا


سوال

گھر میں ایک تخت (تخت پوش)رکھا ہوا  ہے جس پر نماز پڑھی جاتی ہے اگر و ہ وقت گزرنے سے خراب ہوجائے اور کسی نفع بخش کام میں اس کو استعمال نہیں کیا جاسکتا ہو تو اس کوجلانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی چیز کسی مقدس کام میں استعمال کی جاتی ہو اور وہ پرانی ہوجائے تو حتیٰ الوسع اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ضائع نہ ہو اور کسی مفید کام میں اس کو استعمال میں لایا جائے ،تاہم اگر کسی مفید کام میں استعمال کرنا ممکن نہ ہو تو اس کو جلانے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔

صورت مسئولہ میں تخت  پوش جس پر نماز پڑھی جاتی ہے اگروہ  کسی پاک صاف جگہ میں استعمال ہوسکتاہے،تو اس میں استعمال کرلینا چاہیے،ورنہ اسے جلانے  میں  بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

 

في «فتاوي أبي الليث» : سئل الفقيه أبو بكر عن ‌حشيش ‌المسجد يخرج عن المسجد أيام الربيع، قال: إن لم يكن له قيمة فلا بأس بطرحه خارج المسجد ولا بأس برفعه والانتفاع به.(المحيط البرهاني،كتاب الوقف ، الفصل الحادي والعشرون: في المساجدوهو أنواع،ج:7،ص:134)

حشيش ‌المسجد إذا أخرج من المسجد أيام الربيع إن لم تكن له قيمة لا بأس بطرحه خارج المسجد ولمن رفعه أن ينتفع."(الفتاوي الهندية ،كتاب الوقف ، الفصل الثاني في الوقف وتصرف القيم وغيره في مال الوقف عليه،ج:2،ص:411)

يجوز رمي ‌براية ‌القلم الجديد، ولا ترمى ‌براية ‌القلم المستعمل لاحترامه كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم. (ردالمحتار علی الدر المختار،كتاب الطهارة ، سنن الغسل،1،ص:322)


فتویٰ نمبر : 6239/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں