بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

خواتین کا درس قرآن میں شریک ہونا


سوال

ہمارے گاؤں میں  ایک عالم دین ہے جو کہ رمضان المبارک میں درس قرآن دیتا ہے ،جبکہ اس کے اس درس میں  مرد کے ساتھ ساتھ خواتین بھی دور دراز سے شریک ہو تی ہیں اور خواتین کے لیے  مسجد کے اوپر والی منزل  میں بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے اور راستہ بھی  مردوں سے الگ ہے ،کیا  اس طرح خواتین کا  درس قرآن  میں شریک ہو نا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ خواتین کا شرعی حدود کی رعایت  رکھتے ہوئے کسی دینی اجتماع یا درس قرآن وغیرہ میں حاضر ہو نا از روئے شریعت   جائزہے،بشرطیکہ  اس سے فتنے کا اندیشہ  نہ ہو،البتہ اگر اس سے فتنے کا اندیشہ  ہو تو احتیاط اسی میں ہے کہ وہ  کسی بھی اجتماع میں شرکت کر نے سے  اجتناب کرے۔

 لہذا صورت مسئولہ میں خواتین کا شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے باپردہ ہو کر کسی مستند عالم دین کے درس قرآن یا  وعظ ونصیحت کی مجلس میں شرکت کرنا جائز ہے۔ خواتین کا شرعی پردہ کی رعایت کے ساتھ  وعظ ونصیحت کی مجلس میں شرکت کرنا اور جمع ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عمل سے ثابت ہے ، پس اگر خواتین باپردہ ہوکر درس قرآن سننے کے لیے مسجد  کے آداب  کی رعایت رکھتے ہو ئے جمع ہوتی ہوں، تو یہ جائز ہے ،بشرطیکہ ان کا جمع ہونا ان کے لیے یا واعظ کے لیے فتنہ کا باعث نہ ہو۔

 

" عن أبي سعيد الخدري قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك، فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن، فكان فيما قال لهن: «ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها، إلا كان لها حجابا من النار»،فقالت امرأة: واثنتين؟ فقال: «واثنتين.(صحيح البخاري ،كتاب العلم ،باب هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم، ج: 1ص: 32، رقم الحديث: 101(

"قال النووي: فيه استحباب وعظ النساء وتذكيرهن الآخرة وأحكام الإسلام، وحثهن على الصدقة، وهذا إذا لم يترتب على ذلك مفسدة أو خوف فتنة على الواعظ أو الموعوظ، ونحو ذلك. (عمدة القاري،باب عظة الإمام النساء وتعليمهن،ج: 4ص: 123)


فتویٰ نمبر : 6269/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں