بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دکان نہ چلانے پر طلاق کو معلق کرنا


سوال

ہمارا سپیرپارٹس کا کاروبار ہے ،ایک دن میرا والد صاحب کے ساتھ لین دین میں تنازعہ ہوا ،تو والد صاحب نے کہا کہ :که تا دا دکان وکو په تا به خزہ طلاقه یي( اگر آپ نے  یہ دکان کیا   تو آپ پر بیوی طلاق ہوگی) ۔۔۔ میں نے جواباً کہا کہ: که ما دا دکان وکو پہ ما به شل واری طلاقه یي ( اگر میں نے یہ دکان کیا تو مجھ پر(بیوی) بیس دفعہ طلاق ہوگی) پھر میں ایک مرتبہ اس دکان  میں چارجر لینے گیا ہوں اوراس دکان میں دکان کے سامان کے علاوہ کمیٹی کی رقم سے خریدا گیا کچھ سامان پڑا تھا تو  ایک مرتبہ میں  دکان گیا  اور  اپنے چھوٹے بھائی کو بتایا کہ یہ فلاں رکشے والے کو یہ سامان  دینا ہے، چنانچہ  رکشے والا  گیا اس نے وہ سامان لا کر مجھے دیا اور میں نے اسے دکان سے باہر فروخت کیا۔اور ایک مرتبہ کسی  دکاندار نے  کچھ سامان کا آرڈردیا تھا ، تو میں نے  اس کے لیے باہر سے سامان  خرید کر دے دیا لیکن اس میں دو چیزیں  کم تھیں میں نے بھائی  سے کہا اس نے وہ چیزیں دکان سے اٹھا کر دیں میں دکان میں نہیں گیا ، میرے ذہن میں تھا کہ یہ چیزیں کمیٹی کے پیسوں سے لی گئی  ہیں ، بعد میں پتہ چلا کہ وہ دونوں چیزیں دکان کی تھیں، توکیا  اس سے میری طلاق واقع ہوگئی؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق کو جب کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے ،تو شرط کے واقع ہونے کے ساتھ  طلاق  واقع ہوجاتی ہے، نیز اگر کوئی  شخص کسی معین مقام میں ایک کام نہ کرنے کی قسم اٹھائے اور اس پر طلاق کو معلق کرے،تو جب وہ شخص وہاں جاکر وہ کام کرے گا تو اس کی  بیوی پرطلاق واقع ہو جائے گی ورنہ نہیں ۔

صورت مسئولہ میں سائل  کا یہ کہنا کہ: که ما دا دکان وکو پہ ما به شل واری طلاقه یي( اگر میں نے یہ دکان کیا تو مجھ (بیوی) پر بیس دفعہ طلاق ہوگی)  دراصل اس مخصوص دکان  کے اندر اشیاء کے  فروخت نہ کرنے پر طلاق کو معلق کرنا ہے ،لہذا   سائل کا کسی کام کے واسطے دکان جانا ،یا دکان  کی  کوئی چیز کسی کے ذریعے  دکان سے  لے کرباہر اپنے لیے  فروخت کرنا چونکہ ا س کے بیان کردہ تعلیق میں داخل نہیں ہے اس لیے جب تک یہ شخص  دکان کے اندر خرید و فروخت  نہ کرے یا دکان کے لیے خرید و فروخت نہ  کرے اس کی طلاق واقع  نہیں ہوگی   ۔

 

وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا.( الهداية ، كتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق،ج:2، ص:626)

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:420)


فتویٰ نمبر : 7154/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں