بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سال بھر والی اور کم عمر بکریوں کی زکوٰۃ


سوال

میں بکریاں پالتا ہوں۔ اس وقت میرے پاس چالیس ایسی بکریاں ہیں جن پر پورا ایک سال گزر چکا ہے، جبکہ پندرہ بکریاں ایسی ہیں جن کے بچے ہیں اور ان پر ابھی تک ایک سال مکمل نہیں ہوا۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ میرے ذمے کتنی بکریوں کی زکوٰۃ واجب ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ صاحبِ نصاب شخص کے لیے سال کے دوران جو  ضرورت سے زائد مال میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے لیے الگ  سال کا حساب نہیں کیا جاتا ، بلکہ وہ سال کے حساب میں پرانے اموال کے تابع ہوتا ہے ۔

لہذا  صورت مسئولہ میں  سائل کا سال کے درمیان میں حاصل ہونے والی اضافی بکریوں پر الگ سے سال گزرنا شرط نہیں ہے، بلکہ وہ اضافی بکریاں دیگرچالیس بکریوں کے ساتھ  مل جا ئیں گی اورسائل کے ذمے ایک بکری کا دینا لازم ہو  گا ۔

 

"ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة. فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق هكذا في شرح الطحاوي. ثم إنما يضم المستفاد عندنا إلى أصل المال إذا كان الأصل نصابا فأما إذا كان أقل فإنه لا يضم إليه، وإن كان يتكامل به النصاب وينعقد الحول عليهما حال وجود النصاب كذا في البدائع."(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص175)

" وليس في الفصلان والحملان والعجاجيل صدقة " عند أبي حنيفة رحمه الله إلا أن يكون معها كبار وهذا آخر أقواله وهو قول محمد رحمه الله........ وإذا كان فيها واحد من المسان جعل الكل تبعا له في انعقادها نصابا دون تأدية الزكاة(الهداية،كتاب الزكوة،فصل وليس في الفصلان والحملان والعجاجيل صدقةج:1ص:100)


فتویٰ نمبر : 10483/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں