بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلبہ سے جرمانہ لینا


سوال

آج کل ہمارے گورنمنٹ اسکولوں میں ایک اسکول ایسا ہے جس میں انچارج صاحب کی طرف سے ہر چیز پر جرمانے عائد کر دیے گئے ہیں، مثلاً: اسمبلی میں وقت پر نہ پہنچنے پر جرمانہ، یونیفارم نہ پہننے کی صورت میں جرمانہ، لیٹ آنے پر جرمانہ، غیر حاضری پر جرمانہ ،سکول کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ، وغیرہ۔غرض یہ کہ تعلیم سے زیادہ توجہ جرمانے عائد کرنے پر دی جا رہی ہے۔ طلبہ مجبور ہو کر بغیر دل کی رضا کے جرمانے ادا کرتے ہیں، اور متعلقہ اساتذہ بڑے اہتمام سے یہ رقم وصول کرتے ہیں۔شریعت کی روشنی میں ایسے جرمانے کی کیا حیثیت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ تعزیر بالمال(مالی جرمانہ) کے بارے میں فقہائے کرام کے اقوال مختلف ہیں موجودہ حالات کو مد نظررکھتے ہوئے بعض امور کی خلاف ورزی پر مالی جرمانہ مقرر کرنے کی گنجائش ہے،لیکن اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ مال جرمانے کی مد میں لی ہوئی رقم اپنے پاس محفوظ رکھی جائے اوراصلاح ہو جانے کے بعداسے واپس کیا جائے ،تاہم اگرغلطی کرنے والا شخص اپنی غلطی پراصرار کرتا رہے اور جرمانہ وصولی  کے بعد دوبارہ واپس کرنے سے مجرم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہوتو اس رقم کو مفاد عامہ میں استعمال کرنا جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اسکول میں طالب علم کی غیر حاضری پر یا اسکول کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جو مالی جرمانہ لیا جاتا ہےاگر طالب علم دوبارہ غیر حاضری نہ کرے یا دوسرے قوانین کے خلاف ورزی نہ کرے ،تواسکول انتظامیہ کو چاہیئے کہ طالب علم کو جرمانہ واپس کر دیں ،البتہ اگر طالب علم بار بارغیر حاضری  کرتا رہے اوراسی طرح اسکول کے دوسرے قوانین کے خلاف ورزی  بار بارکرے ، تو اس جرمانے کو واپس کرنے کی بجائے  طلباء کےعمومی مصالح میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

 

وأفاد ‌في ‌البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى.(ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الحدود،باب التعزیر،ج: 6،ص:106)

 يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ‌ومن ‌قال: ‌إن ‌العقوبة ‌المالية ‌منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته - صلى الله عليه وسلم - مبطل لدعوى نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ۔ولا إجماع يصحح دعواهم.(معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام،  ص:195)


فتویٰ نمبر : 6240/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں