بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

گھر میں نہ رہنے پر طلاق کو معلق کرنا


سوال

سائل اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی گھر کے الگ کمرے میں رہائش پذیرہے ، ایک دن سائل کا اپنے بھائی کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہوا ، جس پر سائل نے یوں طلاق ڈالی کہ " آج کے بعد میں اس گھر میں کبھی نہیں رہوں گا ، اگر رہا تو میری بیوی کو تین طلاق ہوگی" یہ کہنے کے بعد سائل اسی وقت فوراً اپنے بال بچوں کو لے کر وہاں سے نکل چکا ہے اور دوسری جگہ اپنے بھائی کے ہاں عارضی طور پر رہائش اختیار کی ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا سائل اپنے بال بچوں سمیت دوبارہ اسی گھر میں والدین کے ساتھ رہائش اختیار کرسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

جب کوئی  شخص   طلاق کو  کسی شرط کے ساتھ معلق کرےتو جب بھی شرط پائی جائے گی، طلاق واقع ہوجائے گی،اگر تین طلاق ہوں تو تینوں طلاق واقع ہوکرعورت مغلظہ بن جائےگی۔ البتہ اگر کوئی تین طلاق کسی شرط کےساتھ معلق کرے تو فقہا نے اس سے بچنے کے لیے یہ حیلہ بیان کیا ہے کہ کسی شرط کے بغیرایک طلاق بائن دی جائے پھر اس کے بعد جب عدت پوری ہوجائے تو اس شرط کو بجا لایا جائے  تو اس وقت شرط پوری ہوجائے گی لیکن طلاق واقع نہ ہوگی ؛ کیونکہ اس طلاق کا محل باقی نہیں رہا، اور جب شرط پوری ہو جائے تو اس کے بعد تجدید نکاح کرلے اس کےبعد دوبارہ اگر وہی شرط پائی جائےتواس سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

نیزطلاق اور تعلیق طلاق میں عرف کا اعتبار ہوتا ہے اور جب کوئی کہے کہ میں اس گھر میں رہائش اختیار نہیں کروں گا تو ہمارے عرف میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اور میرے اہل و عیال سب اس میں نہیں رہیں گے، لہذا سائل نےاگر دوبارہ اسی گھر میں رہائش اختیار کی جس کے ساتھ طلاق معلق کی تھی،تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی،اور بیوی مغلظہ بن جائی گی۔البتہ تمہید میں مذکور حیلہ اختیار کرنے سے تین طلاقوں سے بچ سکتا ہے۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.  (الفتاوى الهندية،کتاب الطلاق،الباب الرابع، الفصل الثالث،ج1،ص488)

والعرف في الشرع له اعتبار ... لذا عليه الحكم قد يدار(رد المحتار على الدر المختار،مطلب فى السفر بالزوجة،ج:3،ص:147)

إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت۔ (الفتاوى الهندية،کتاب الطلاق،الباب الرابع، الفصل الأول ،في الطلاق بالشرط ونحوه،ج،1،ص،483)

فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقهاواحدة ثم بعدالعدة تدخلهافتنحل اليمين فينكحها.(ردالمحتار علی الدر المختار، كتاب الطلاق،باب التعلیق،ج:3،ص:355)


فتویٰ نمبر : 7170/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں