بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
تحریری طلاق کا حکم
سوال
میرا نام حسن لطیف ہے میرا نکاح مسماۃ کوکب طارق بن محمد طارق آفریدی سے 23دسمبر 2019 ء کو ہوا ۔شادی کے بعد کچھ عرصہ دونوں نے باہم خوشی سے گزارا،اس دوران میں نے اس کو اپنے پاس دبئی میں رکھا،تاہم کچھ عرصہ بعد موصوفہ کا رویہ بدل گیا اس نے دبئی میں ایک دن گھر کے شیشے وغیرہ بھی توڑے اور مجھ سے علحیدگی کا مطالبہ کیا اور پاکستان واپس آگئی۔اس دوران ہمارا بچہ بھی پیدا ہوا ،دسمبر 2022ءکو میں پشاور آیااور اس کو گھر بلایا ، لیکن اس نے گھر آنے سے انکار کیا اور مجھے بچے سے ملنے بھی نہ دیا ،جنوری 2023ءمیں، میں نے انہیں ایک لیگل نوٹس بھیجا لیکن اس کا بھی مثبت جواب نہیں آیابلکہ علحیدگی کا مطالبہ کرتی رہی،چنانچہ میں نے ان وجوہات کی بنا پرایک تحریری طلاق نامہ (Divorce Deed )تحریر کرکےاس پر دستخط کیے اور اس کو بھیجا لیکن اس نے وصول کرنے سے انکار کیا ۔براہ کرم اس صورت حال میں میری طلاق ہوئی ہے یا نہیں ؟واضح رہے کہ اس تحریر کے بعد عدت کے دوران میں نے کوئی رجوع نہیں کیا ہے۔
جواب
واضح رہے کہ طلاق جس طرح زبانی الفاظ کہنے سے واقع ہو جاتی ہے اسی طرح اگر کوئی شخص طلاق کی نیت سےبیوی کو طلاق کے الفاظ لکھ کربھیج دے یا طلاق نامہ پر دستخط کرے تو اس سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق سائل نے چونکہ تحریری طلاق نامہ پر دستخط کیے ہیں اور اس کا اقرار بھی کرتا ہے تو طلاق واقع ہوچکی ہے اور چونکہ اس تحریر کے بعد دورانِ عدت رجوع بھی نہیں کیا ہے ا س لیے ان دونوں کا نکاح ختم ہو کران کے درمیان مکمل جدائی (بینونت) واقع ہوگئی ہے۔
الکتابة علٰی نوعین:مرسومة و غیر مرسومة۔۔۔۔۔۔۔و ھو علٰی وجھین :،مستبینة و غیر مستبینة۔۔۔۔۔۔۔۔۔ و إن کانت مرسومة یقع الطلاق نوٰی أو لم ینوي.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،مطلب فى الطلاق بالكتابة ، ج:4،ص:456,457)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں