بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

زمین کے انتقال پر پیسے لینا


سوال

ایک شخص نے  زمین بیچی ہے، اور اب بیچنے والےکا بیٹا زمین کاانتقال حوالہ کرنے کے لیے حکومتی اخراجات کے علاوہ اضافی پیسے مانگ رہا ہے،تو کیا زمین کے انتقال پر پیسےلینا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کسی نےیہ اضافی  پیسے لیے ہوں،تو اب وہ کیا کرے؟

جواب

واضح رہےکہ جب بائع اورمشتری آپس میں باہمی رضا مندی سےکسی زمین کی بیع طےکرلیں اورطرفین سےایجاب وقبول ہوجائےتواس سےبیع تام ہوکے مشتری کےذمہ ثمن اوربائع کےذمہ زمین حوالہ کرنالازم ہوجاتاہے،چنانچہ زمین کاقانوناانتقال کروانا بائع کی ذمہ داری ہوتی ہےاس لیےاس پرمزید پیسوں کا مطالبہ جائزنہیں۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکسی شخص نےزمین فروخت کر کےمشتری سےپیسےلےلیےہوں،تو اس پرلازم تھا کہ زمین کا انتقال کروا دے،اگراس نے نہ کروایا ہوتواب اس کے ورثا پرلازم ہے،چنانچہ ان کا انتقال کےخرچہ کے علاوہ اضافی پیسے لینا شرعا جائز نہیں اوراگرکسی نےمشتری سےانتقال پرناحق پیسےلیےہوں،تواس پرلازم ہےکہ وہ پیسےمشتری کو واپس کردے۔

 

لا يجوزلأحدمن المسلمين أخذ مال أحد بغيرسبب شرعي.(البحرالرائق،كتاب الحدود،فصل فی التعزير،ج:5،ص:68)


فتویٰ نمبر : 6231/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں