بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کا چندہ مدرسہ میں خرچ کرنا


سوال

ہمارے ہاں اکثر لوگ جمعہ کے دن مسجد کے لیے جو چندہ  دیتے ہیں اگر اس   چندہ کو  مدرسہ کی ضروریات(مطبخ وغیرہ ) میں  خرچ کریں تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

عموماً مساجد میں جمعہ کے دن عوام سے   جو چندہ  جمع کیا جاتا ہے وہ مسجد کے مصالح ہی کے لیے ہوتا ہے لہذا اس کو مسجد کی ضروریات ومصارف میں خرچ کرنا ضروری ہے۔صورت مسئولہ میں جمعہ کے دن عوام مسجد میں جو چندہ دیتے ہیں اس  کو مدرسہ میں صرف کرنا درست نہیں ۔البتہ اگر چندہ دہندگان کی طرف سے اس چندہ کو مدرسہ میں استعمال کرنے کی اجازت ملی ہو تب یہ چندہ مسجد کے ساتھ خاص نہ ہوگا بلکہ مسجد ومدرسہ دونوں میں خرچ کرنے کی گنجائش ہوگی لیکن جب تک ان سے اجازت نہ لی گئی ہو تو چونکہ عرف یہی ہے کہ بلا تعیین چندہ صرف مسجد کے مصالح کے لیے جمع کیا جاتا ہے لہذا اس چندہ کو مدرسہ میں استعمال کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔

 

"الوکیل انما یستفید التصرف من الموکل وقد امرہ بالدفع الی غیرہ کما لو اوصی لزید بکذا لیس للوصی الدفع الی غیرہ فتامل". (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، ج:3 ،ص:189)

"واذا ارأد ان یصرف شیئا من ذالک الی امام المسجد أو إلى موذن المسجد فلیس لہ ذالک إلا أن کان الواقف شرط في الوقف"(الفتاوی الھندیۃ، ألفصل الثانی: فی الوقف وتصرف القیم وغیرہ، ج:2 ،ص:463)


فتویٰ نمبر : 6229/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں