بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نماز کا وقت داخل ہونے کے ایک گھنٹہ بعد عورت کو حیض آنا


سوال

 اگر نماز کا وقت داخل ہو جائے لیکن کوئی عورت گھر کے کاموں میں مشغولیت کی وجہ سے نماز کو تقریبا ایک گھنٹہ تک نہ پڑھ سکے، پھر نماز قضا ہونے سے پہلے اس کو حیض شروع ہو جائے تو کیا پاک ہونے کے بعداس پراس وقت کی نماز کی قضاء لازم ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز کی قضا کے وجوب کا تعلق آخری وقت کے ساتھ ہے، اگر آخری وقت  میں نماز کی اہلیت ہو تو  قضا لازم ہو گی اور اگر آخری وقت میں اہلیت نہ ہو، تو  قضا لازم نہیں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جو عورت نماز کاوقت داخل ہونے کے ایک گھنٹہ بعد حائضہ ہو جائے تو نماز کے  آخری وقت میں حائضہ ہونے کی وجہ سے وہ نماز کی اہل نہیں ، اس وجہ سے اس پراس وقت کی نماز کی قضا لازم نہیں۔

 

إذا حاضت في الوقت أو نفست سقط فرضہ بقي من الوقت ما یمکن أن تصلي فیہ أو لا ھکذا في الذخیرة. (الفتاوی الھندیة، کتاب الطھارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الرابع في أحکام الحیض والنفاس والاستحاضة، ج:1، ص:38)

قال في البحر وفائدة إضافته إلى الجزء الأخير اعتبار حال المكلف فيه فلو بلغ صبي أو أسلم كافر أو أفاق مجنون أو طهرت الحائض أو النفساء في آخره لزمتهم الصلاة ولو كان الصبي قد صلاها في أوله وبعكسه لو جن أو حاضت أو نفست فيه لفقد الأهلية عند وجود السبب.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الصلوة، باب صلوة المسافر:ج:2،ص:331)


فتویٰ نمبر : 10448/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں