بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/08/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے چندے سے امامِ مسجد اور مدرس کو تنخواہ دینا


سوال

 ہمارے پاس مسجد میں جو چندہ  جمع ہوتا ہے کیا اس چندے میں سے ہم امامِ مسجد  کی تنخواہ اور مدرس کی تنخواہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

عموما مساجد میں عوام سے جو چندہ  جمع کیا جاتا ہے وہ مسجد کے مصالح ہی کے لیے ہوتا ہے لہذا اس کو مسجد کی ضروریات ومصارف میں خرچ کرنا ضروری ہے اور اس کو مدرسہ میں صرف کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر چندہ دہندگان کی طرف سے اس چندہ کو مدرسہ میں استعمال کرنے کی اجازت ملی ہو، یا چندہ مسجد اور مدرسہ دونوں کے لیے جمع کیا گیا ہو تو تب یہ چندہ مسجد کے ساتھ خاص نہ ہوگا بلکہ مسجد ومدرسہ دونوں کی ضروریات میں خرچ کرنے کی گنجائش ہوگی لیکن جب تک ان سے اجازت نہ لی گئی ہو تو چونکہ عرف یہی ہے کہ بلا تعین چندہ صرف مسجد کے مصالح کے لیے جمع کیا جاتا ہے لہذا اس چندہ کو مدرسہ میں استعمال کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔نیزجس مسجد سے مدرسہ ملحق ہو اور دونوں ایک نظام کے تحت چلتے ہوں ،اور چندہ دینے  والے جانتے ہوں کہ ہمارا چندہ ان دونوں میں مشترکہ طور پر خرچ کیا جاتا ہے تو پھر اس میں سے  امام اور مدرس کو تنخواہ دینا جائز ہے۔

 

"الوکیل انما یستفید التصرف من الموکل وقد امرہ بالدفع الی غیرہ کما لو اوصی لزید بکذا لیس للوصی الدفع الی غیرہ فتامل" (ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الزکوۃ ج3 ص189)

(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج:4، ص:365)


فتویٰ نمبر : 6222/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں