بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

میزان بینک سے قسطوں پر گاڑی نکلوانا


سوال

 میزان بینک سے گاڑی نکلوانا کیسا ہے، کہ آیا واقعی یہ لوگ شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں؟

جواب

موجودہ دور میں سودی کاروبار کی حوصلہ شکنی اور اسلامی معیشت کو ترویج دینے کی خاطر اسلامی بینک کام کررہے ہیں اگرچہ اسلامی بینک کے نام سے قائم ہونے والے ہر ایک ادارہ پر   اعتماد ممکن نہیں۔  لیکن جس بینک کے قواعد و ضوابط حقیقت میں شرعی ہوں اور جید مفتیان کرام کی نگرانی میں کام کرتا ہوتو شرعا ان کے ساتھ معاملات کرنے کی گنجائش ہے ۔

ہماری معلومات کےمطابق میزان بینک کے معاملات فی الحال شرعی قواعد و ضوابط کے موافق ہیں اور جید علمائے کرام ان کی نگرانی کررہے ہیں لہذا میزان بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا جائز ہے ، یہ سود کے زمرے میں داخل نہیں ۔

 

قولہ تعالی :واحل اللہ البیع وحرم الربوا(البقرۃ275)

الامور بمقاصدھایعنی ان الحکم الذی یترتب علی امر یکون علی مقتضی ماھو المقصود من ذلک الامر ۔(شرح المجلۃ لخالد الاتاسی ،المادۃ:2ج ص13)


فتویٰ نمبر : 3763/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں