بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حاملہ عورت کی عدتِ وفات


سوال

 اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور اس کا شوہر وفات پا جائے تو اس کی عدت وفات کیا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ حاملہ عورت کی عدت خواہ طلاق کی وجہ سے ہو یا شوہر کی وفات کی وجہ سے، بہر صورت  وضع ِحمل(یعنی بچہ کی  پیدائش تک) ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جب کسی عورت کا شوہر وفات پا جائے اور وہ حاملہ ہو تو اس عورت کی عدتِ وفات بچے کی پیدائش تک ہوگی۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا﴾ (الطلاق:4)

(و) في حق (الحامل) ‌مطلقا ‌ولو ‌أمة ‌أو ‌كتابية ‌أو ‌من ‌زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات أو طلقها تعتد بالوضع، جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها).( رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب العدة، ج:3، ص:511)


فتویٰ نمبر : 7147/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں