بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

جاندار کی تصویر والی کوٹ یا جیکٹس فروخت کرنا


سوال

 ہم کباڑ یعنی پرانے کوٹ، جیکٹس وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں اور جب ہم لاٹ مال خریدتے ہیں تو اس وقت ہمیں یہ علم نہیں ہوتا کہ اس میں بعض کوٹوں پر جاندار کی تصاویر ہوں گی، لیکن خریدنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بعض کوٹوں یا جیکٹس پر جاندار کی تصاویر ہیں۔ کیا ہمارے لیے ایسے کوٹ یا جیکٹس کو فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جن اشیاء پر جاندار کی تصاویر ہوں، تو اگران اشیاء کی خرید و فروخت سے جاندار کی تصاویر  کی خرید و فروخت مقصود ہو، تو ایسی  اشیاء کی خرید و فروخت ناجائز ہے اور ان سے حاصل ہونے والے منافع بھی ناجائز ہیں اور اگر ایسی اشیاء کی خرید و فروخت سے مقصود جاندار کی تصاویر کی خرید و فروخت نہ ہو، بلکہ ان اشیاء کی خرید وفروخت مقصود ہو اور تصاویر  ضمناً اور تبعاً آگئی ہوں، تو  ایسی  اشیاء  کی خریدو فروخت جائز ہے اور ان سے حاصل ہونے والے منافع بھی جائز ہیں۔

 صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر لاٹ مال خرید کر بعد میں یہ معلوم ہو کہ اس میں بعض کوٹوں یا جیکٹس پر جاندار کی تصاویر ہیں اور ان تصاویر کی خرید و فروخت مقصود نہ ہو، بلکہ صرف کوٹ یا جیکٹس کو فروخت کرنا مقصود ہو، تو ان جیکٹس اور کوٹوں کو فروخت کرنا جائز ہے۔ تاہم اس سے احتراز بہتر ہے اور خریدار کو چاہیے کہ ایسی تصاویر کو مٹا دے،  یا کھرچ دے۔

 

ألا ترى أن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيھا التماثيل بالتيجان، ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك. وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها۔ وحكم هذه الأشياء كحكم ما لو أصابوا برابط وغيرها من المعازف. فھناك ينبغي له أن يكسرها ثم يبيعھا أو يقسمھا حطبا. قال: إلا أن يبيعھا قبل أن يكسرها ممن هو ثقة من المسلمين يعلم أنه يرغب فيھا للحطب لا للاستعمال على وجه لا يحل، فحينئذ لا بأس بذلك. لأنه مال منتفع به. فيجوز بيعه للانتفاع به بطريق مباح شرعا.(السير الكبير،باب مايحمل عليه الفيء،ص:1051)

الأمور بمقاصدها:یعني أن الحکم الذی یترتب علی أمر یکون علی ما ھو المقصود من ذالک الأمر.(شرح المجلة لسلیم رستم باز،المقالة الثانیة في بیان القواعد الفقھیة،المادۃ:2،ص:17)

أما إذا کان المبیع شیئًا آخر من المباحات وھو مشتمل علی صور، فتدخل في البیع تبعًا، فیجوز بیعھا، وھذا مثل الجرائد والصحف والکتب التي یقصد منھا مضمونھا المباح؛ ولکنھا ربما تشتمل علی صور ممنوعة.(فقه البيوع،المبحث الثالث في أحكام المبيع، الشرط الثاني: كون المبيع متقوما، ج:1، ص:320)


فتویٰ نمبر : 3765/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں