بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

بیمار والد کی خدمت کرنے کی وجہ سے نماز کا قضاء ہو جانا


سوال

 میرے والد صاحب ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ڈاکٹر نے کہا ہے کہ مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، تو اس کی خدمت کے لیے ہر وقت ایک شخص کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا اگر  خدمت میں مصروف ہونے کی وجہ سے نماز قضا ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بغیر عذر کے نماز قضا کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر سخت عذر ہو، مثلاً: مریض کے مرنےیا اسے شدید نقصان پہنچنے یا دشمن وغیرہ کا خوف ہو اور عذر سے نماز قضاء ہو جائے تو بعد میں قضا پڑھ لی جائے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر ہسپتال میں سائل کے والد کی خدمت کرنے کے لیے اور کوئی نہ ہواور والد بھی خدمت کا ایسے محتاج ہوکہ اگر نماز میں مشغول ہو جائے تو والدکو  شديدنقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتو نماز میں تاخیر کرسکتا ہےلیکن عذر ختم ہونے کے بعد پڑھنا ضروری ہے۔

‌‌

باب قضاء الفوائت لم يقل المتروكات ظنا بالمسلم خيرا، إذ التأخير بلا عذر كبيرة ‌لا ‌تزول ‌بالقضاء بل بالتوبة أو الحج، ومن العذر العدو، وخوف القابلة موت الولد لأنه عليه الصلاة والسلام أخرها يوم الخندق۔۔۔۔(قوله وخوف القابلة إلخ) وكذا خوف أمه إذا خرج رأسه، وما ذكروه من أنها لا يجوز لها تأخير الصلاة وتضع تحتها طستا وتصلي فذاك عند عدم الخوف عليه كما لا يخفى۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:62)

‌"إذا ‌خافت ‌القابلة" وهي التي يقال لها داية تتلقى الولد حال خروجه من بطن أمه إن غلب على ظنها "موت الولد" أو تلف عضو منه أو أمه بتركها وجب عليها تأخير الصلاة عن وقتها وقطعها لو كانت فيها "وإلا فلا بأس بتأخيرها الصلاة وتقبل على الولد" للعذر كما أخر النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة عن وقتها يوم الخندق۔ (مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة، فصل فيما يوجب قطع الصلاةوما يجيزه وغير ذلك من تأخير الصلاة و تركها، ص:214)


فتویٰ نمبر : 10442/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں