بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

اجیر خاص کا کسی دوسرے کے ساتھ کام کرنا


سوال

ایک شخص کسی کے ساتھ کام کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ کام کرتے وقت اپنے لیے ایسا کام کرتا ہے جس پر اسے کمیشن ملتا ہے لیکن جس کے ساتھ ملازمت کرتا ہے اس کو اس کے کام کرنے کا پتہ ہے وہ کچھ نہیں کہتا،تو کیا ملازم اپنے وقت کے اندر کسی اور کے لیے کام کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

تنخواہ دار ملازم اجیر خاص ہوتا ہے اور اجیر خاص کو یہ اختیار نہیں کہ متعینہ  وقت میں مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کا کام کرے کیونکہ  یہ خیانت  ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق ملازم کا مالک کی اجازت کے بغیر متعین وقت میں کسی اور کے لیے  کمیشن پر کام کرنا جائز نہیں۔البتہ اگر مالک اجازت دے یا اس کو معلوم ہو اور وہ اس کو نہ روکے تو پھر اس کے لیے گنجائش ہے۔

 

(الخاص)... (‌وهو ‌من ‌يعمل ‌لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل.( الدرالمختار على صدر ردالمحتار،كتاب الإجارة،مبحث الأجير الخاص،ج:٦،ص:٦٩)

إذا ‌استأجر ‌رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة.(الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة ،الباب الثالث في الأوقات التي يقع عليها عقد الإجارة، ج:٤، ص:٤١٦)

وليس ‌للخاص ‌أن ‌يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل. (قوله ‌وليس ‌للخاص ‌أن ‌يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة.(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:٩، ص:٩٦)


فتویٰ نمبر : 3761/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں