بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے وقف زمین مدرسہ کے لیے استعمال کرنا


سوال

کئی سال پہلے میں  نے مسجد کے لیے ایک زمین وقف کی جس میں ،میں نے بنیادیں بنائیں  اور بھرائی بھی کی لیکن اب کئی سال بعدہم نے وہ علاقہ چھوڑ دیا اور وہاں کوئی مسجد بنانے والا بھی نہیں جو مسجد تعمیر کرے ۔اس کے ساتھ قریب تقریباً 550 میٹر دائیں طرف اور بائیں طرف اس محلے میں مساجد موجود ہیں۔اب ایک فاضلہ کو  بنات کے مدرسہ کے لیے یہ زمین درکار ہے ،کیا بنات کے مدرسہ کے لیے میں یہ زمین دے سکتا ہوں؟

نوٹ:مسجد تعمیر کرنے والا  کوئی نہیں ۔اس کی ذمہ داری بھی کوئی نہیں لیتا لیکن مدرسہ کی ذمہ داری  وہ فاضلہ لے رہی ہے اور اس کے قریب کوئی دوسرا مدرسۃ البنات بھی موجود نہیں۔

جواب

 واقف جو چیز جس مقصد کےلیے وقف کرے اور اس  مقصد میں ایک مرتبہ استعمال ہوجائےتو اس سے وقف تام ہوجاتا ہے۔

 صورت مسئولہ کے مطابق  اگر واقف نے زمین مسجد کےلیے زبانی وقف کی  ہو  لیکن باقاعدہ نماز وں کی ابتداء نہ ہوئی ہو تو یہ جگہ مسجد شمار نہ ہوگی، لہذا زمین کسی اور مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

 

والحاصل أن التسليم علی قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون بأحدی طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها أو لحصول المقصود وذلك في السكنی في مسئلة الدار وبالنزول في مسئلة الخان وبالدفن في مسئلة القبروما أشبه ذلك. (الفتاوی التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل الثاني والعشرون ،ج:8،ص:185)

الوقف إخراج المال عن الملک علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات. (بدائع الصنائع، کتاب الوقف، ج: 8، ص: 396 )


فتویٰ نمبر : 6217/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں