بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

كرنسی ادھار فروخت کرنا


سوال

میں کرنسی کا کام کرتا ہوں۔ اگر کوئی شخص چین میں ہو اور فون پر وہ ہمارے ساتھ ایک رینمنبی (چائنیز کرنسی) کی قیمت مثلا: چالیس روپیہ طے کر لے اور اس نے چین میں پانچ لاکھ رینمنبی کا سودا کیا ہو اور وہ ہمیں اس چائنیز شخص کا اکاؤنٹ نمبر بھیج دیتا ہےکہ اس میں پانچ لاکھ رینمنبی جمع کروا دو۔ ہم اسی وقت اس کے اکاؤنٹ میں مذکورہ رقم جمع کروا دیتے ہیں اور پھر وہ پاکستانی شخص ہمیں دو چار دن میں اس کی قیمت ادا کر لیتا ہے، کیا ایسا معاملہ شرعا جائز ہے؟نیز اگر وہ قیمت ایک دو ماہ کے بعد دیتا ہو تو پھر ہم اسے ایک رینمنبی چالیس کی بجائے بیالیس میں فروخت کرتے ہیں، کیا یہ صورت بھی شرعا جائز ہےیا نہیں؟

جواب

مروجہ کرنسی ثمن خلقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہے اس لئے ایک ملک کی کرنسی  کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ کرتے وقت  مجلس عقد میں دونوں کرنسیوں پر قبضہ ضروری نہیں، البتہ کسی ایک کرنسی  پر قبضہ ضروری ہے  تاکہ دونوں طرف ادھارنہ ہو۔ نیز کسی چیز کو نقد میں سستا اورقسطوں یا ادھار پر زائد قیمت میں فروخت کرنا جائز ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی دوسرے ملک میں کسی کو ادائیگی کرنے کے لیے پاکستان  میں کسی سے کہے کہ میری جگہ ادائیگی کرو اور میں پاکستانی روپیہ میں دے دوں گا تو یہ دراصل دو عقد  ہیں۔ایک اُس ملک کی کرنسی کا پاکستانی کرنسی سے تبادلہ اور دوسرا اس کرنسی کو مطلوبہ جگہ پر پہنچانا۔اس پہلے عقد میں چونکہ مجلسِ عقد میں کم از کم ایک کرنسی پر قبضہ ضروری ہے اس وجہ سے اگر پاکستانی روپیہ اسی وقت  نہ دیا جائے اور وہ دوسری کرنسی بھی خریدار یا اس کے مطلوبہ اکاؤنٹ میں اسی مجلس میں نہ پہنچے  تو یہ معاملہ جائز نہ ہوگا۔ نیز اگر قیمت قسط وار طے ہو تو ایک رینمنبی چالیس کی بجائےبیالیس میں فروخت کرنادرست ہے بشرطیکہ ایک کرنسی پر مجلس عقد میں ہی قبضہ ہو جائے۔

 

عن ابن عمر، ‌أن ‌النبي - ‌صلي ‌الله ‌عليه ‌وسلم - ‌نهى ‌عن ‌بيع ‌الكاليء ‌بالكاليء.(السنن الكبرى للبيهقي، كتاب البيوع، ‌‌باب ما جاء في النهي عن بيع الدين بالدين، ج:11، ص:87، رقم الحديث:10633)

(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار ،باب الربا،ج:7، ص:414)

لا بد من قبض أحدهما ليخرج العقد عن الكالىء بالكالىء. (الهداية، كتاب البيع، مسائل منثورة، ج:3،ص:111)


فتویٰ نمبر : 3757/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں