بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال لینا


سوال

اگرکوئی   شخص  عدالت میں باوجود جاننے کے  قصداً  جھوٹی قسم کھا  کر کسی کا مال ہڑپ کرے، تو کیا جھوٹی قسم کھانے والا گناہ گار ہوگا اور  کیا اس پر کفارہ آئے گا یا نہیں ،اور اس کی معافی کی کوئی صورت ہوسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر کسی شخص کا دوسرے  پر  حق ہولیکن اس کے پاس گواہ نہ ہوں، اس لیے وہ مدعی علیہ کوقسم دے، تو ایسی صورت میں اگر مدعی علیہ جھوٹی قسم کھالے، تواس سے وہ سخت گناہ گار ہوگا ،کیونکہ جھوٹی قسم کھا نا گناہ کبیرہ ہے،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جھوٹی قسم کھانے کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے، ارشاد ہے :"جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ  کسی مسلمان  بھائی  کا مال  ہڑپ کرے ،تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات اس حال میں کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہونگے"۔البتہ ماضی پر جھوٹی قسم کھانے پر کوئی کفارہ نہیں آئے گا البتہ اگر مالک کو اس کا مال واپس کرے اور اس سے معافی مانگے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے،تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس کو بخش دے گا۔

 

عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكبائر: ‌الإشراك ‌بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس.(صحيح البخاري، كتاب الأيمان والنذور،باب اليمين الغموس، ج:6،ص:2457، رقم الحديث:6297)

عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من حلف على يمين ‌كاذبة، ليقتطع بها مال رجل مسلم، أو قال: أخيه، لقي الله وهو عليه غضبان.فأنزل الله تصديقه:إن الذين يشترون بعهد الله. (صحيح البخاري، كتاب الأيمان والنذور،باب اليمين الغموس، ج:6،ص:2453، رقم الحديث:6283)


فتویٰ نمبر : 10441/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں