بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

نافرمان بيوی کا نان نفقہ


سوال

اگر ايك عورت  پندرہ سال سے اپنے شوہر کا حق ازدواجی ادانہیں کرتی،اور اگر شوہر  کوشش کرتا ہے  تو  شور مچا کر شوہر کی ہتک عزت کرتی ہے،شوہر کی بات نہیں مانتی،اس کے ساتھ باتیں نہیں کرتی ،اور اپنے بچوں کو بھی ایسی ہی تربیت دیتی ہے،ان کو والد کے خلاف ابھارتی ہے ،تو کیا شوہر پر اس کا نفقہ لازم ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ نے عورت پر خاوند کی اطاعت کو ضروری قرار دیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ" اگر میں اللہ رب العزت کے علاوہ کسی کیلئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے"۔ جو عورت شوہر کی فرماں برداری  اور اطاعت کرے اس کی بڑی فضیلت  بیان  کی گئی ہے : نبی اکرم ﷺنے فرمایا "اگر کوئی عورت پانچ نمازوں کو ادا کرے اور اپنی عزت کی حفاظت کرے اور خاوند کی اطاعت کرے وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے "۔ اورجو عورت شوہر  کی نافرمانی کرتی ہو تو  احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت سے متعلق سخت وعیدیں آئی ہیں، حدیثِ مبارک میں ہے:رسول کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے  تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتےرہتے ہیں"۔نیز شریعت نے بیوی کا نان ونفقہ شوہر پر لازم کیا ہے  لیکن اگر بیوی مباح امور میں شوہر کی بات نہ مانے  اور نافرمانی کرے  ، یا بغیر کسی عذر کے شوہر کی خواہش پوری کرنے سے انکار کرے  اور اگر بغیر کسی معقول وجہ کے شوہر کی اجازت کے بغیر  اس کا گھر چھوڑ کر  چلی جائےتو وہ ناشزہ کہلاتی ہے،چنانچہ ایسی صورت میں اس کا  نان ونفقہ شوہر پرشرعاً  لازم نہیں ہوتا ،لیکن اگر بیوی شوہر کے ساتھ رہ رہی ہو ،صرف اپنے اوپر قدرت نہیں دے رہی ، اس کی بات نہیں مانتی تو وہ ناشزہ شمار نہ ہوگی، اس کا نفقہ شوہر پر لازم ہوگا ۔ البتہ شوہر کی نافرمانی پر وہ  سخت گناہ  کی مرتکب ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر بیوی اپنے شوہر کی بات نہیں مانتی ،اس کا حق ازدواجی پورا نہیں کرتی ، اس کی ہتک عزت کرتی ہواور بچوں کو اپنے شوہر کے خلاف ابھارتی ہو،تو اس سے وہ سخت گناہ کی مرتکب ہوگی،البتہ وہ شوہر کے گھر میں رہتی ہوتوشوہر پر اس کا نفقہ لازم ہے۔

 

عن أبی هريرة، عن النبی صلی الله عليه وسلم قال: لو کنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها ۔(جامع الترمذي، أبواب الرضاع والطلاق، باب ما جاء في حق الزوج علی المرأة، ج:1، ص:219)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ: الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ. (سنن النسائي:حديث: 3231)

 عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إذا ‌دعا ‌الرجل ‌امرأته ‌إلى ‌فراشه ‌فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح».(صحيح البخاري،باب اذا قال احدكم امين والملائكة في السماء،ج:4،ص:116،حديث نمبر:3237)

وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه بخلاف ما لو امتنعت عن التمكن في بيت الزوج ؛لأن الاحتباس قائم۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السابع عشر فى النفقات،الفصل الاول،ج:1،ص:545)

وقيد بالخروج؛ لأنها لو كانت مقيمة معه في منزله ولم تمكنه من الوطء فإنها لا تكون ناشزة؛ لأن الظاهر أن الزوج يقدر على تحصيل المقصود منها بدليل أن البكر لا توطأ إلا كرها، وقد علم مما قدمناه أن المراد بمنعها نفسها منه بغير حق".(البحرالرائق،كتاب الطلاق،باب النفقة،ج:4،ص:195)


فتویٰ نمبر : 7145/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں