بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بیل اجرت پر دینا


سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان  کرام کہ  جفتی کے لیے  بیل  کا پالنا اور اس پر اجرت لینا کیسا ہے ؟

جواب

احادیث مبارکہ میں  جانورکی جفتی پر اجرت لینے کو حرام قرار دیا گیا ہے چنانچہ  حدیث شریف میں ہے کہ آپﷺنے  جانورکی اجرت سے منع فرمایا ہے ۔ نیز  اجرت لینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس چیز سے نفع اٹھایا جائے  وہ اس شخص کی ملکیت میں ہو ،چونکہ حمل ٹھہرانا   کسی  کے اختیار میں نہیں ہے اس لیے اس پر اجرت لینا شرعاً جائز نہیں ۔

لہذاصورت مسؤلہ میں  بیل  کو خاص اسی مقصد کے لیے پالنا اور اس پر اجرت لینا شرعاًجائز نہیں،تاہم اجرت طے کیے بغیر اگر جانور کے لیے چارہ وغیرہ کے طور پر کچھ دیاجائےتو اس کے لینے کی گنجائش ہے   ۔

 

 عن ابن أبي نعم، عن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي عليه السلام أنه: " ‌نهى ‌عن ‌عسب التيس، وكسب الحجام، وقفيز الطحان "۔(شرح مشکل الاثار، ج:2، ص:186)

قال رحمه الله (لا أجرة عسب التيس) يعني ‌لا ‌يجوز ‌أخذ ‌أجرة ‌عسب ‌التيس لقوله عليه الصلاة والسلام «إن من السحت عسب التيس ومهر البغي» ؛ ولأنه عمل لا يقدر عليه وهو الإحبال فلا يجوز أخذ الأجرة عليه ولا أخذ المال بمقابلة الماء وهو نجس لا قيمة له فلا يجوز والمراد هنا استئجار التيس لينزو على الغنم ويحبلها بأجر أما لو فعل ذلك من غير أجر لا بأس به؛ لأن به يبقى النسل ۔(البحر الرائق، ج:8، ص:21)


فتویٰ نمبر : 3755/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں