بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بڑے گاؤں میں نماز جمعہ کا حکم


سوال

موضع "میر ہزار خانزاد خیل" لکی مروت  کی آبادی تقریباً تین ہزار سات سو اٹھتر (3778)ہے،اس  کے ساتھ متصل کوٹکہ نظر شاہ ہے جسکی آبادی تقریباً ایک سوتین(103) ہےجس کے لوگ ایک دوسرے گاؤں سے آئے ہوئے ہیں،لیکن اب دونوں گاؤں کی آبادیاں بالکل متصل ہیں۔ اجنبی شخص کو دونوں ایک ہی گاؤں معلوم ہوتےہیں ،اسکی غم و خوشی عید وغیرہ گاؤں میر ہزار خانزاد خیل کیساتھ ہوتی ہے ،گاؤں میں چار اینٹ پکنے کی بھٹیاں ہیں جو اتنے بڑے ہیں کہ ہر ایک میں تقریباً سات یا آٹھ لاکھ اینٹ ہوتے ہیں اور ہر بھٹے میں تقریباً 55 سے 60 تک مزدور روزانہ کام کرتے ہیں۔ گاؤں میں پندرہ چھوٹے بڑے مساجد ،تین دینی مدرسے ایک بنین کے، دو بنات کے، دو پرائمری سکول لڑکوں کے اور ایک پرائمری سکول لڑکیوں کا ہے، اٹھارہ جنرل سٹور، ایک پاپس کا کارخانہ ، آٹا پیسنے کی دو چکیاں ، کپڑوں کی دس دکانیں، ایک کراکری کی دکان، دو برتنوں کی دکانیں ایک ڈینٹل ڈاکٹر ، دو اور ڈاکٹر ، اور دو میڈیکل سٹورہیں، ویلڈنگ کی دکان، موٹر سائیکل مستری، پنکچر وغیرہ کےمستری گاؤں میں موجود ہیں۔ دو تیل کی ایجنسیاں ہیں، ایک زونگ کا ٹاور اور پانچ ٹیو ب ویل ہیں۔کیا ان ضروریات وسہولیات کے میسر ہوتے ہوئے اور گاؤں کی آبادی مذکورہ بالا تعداد میں ہوتے ہوئے جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب تحریر فرما کر مشکور فرمائیں ۔

جواب

نماز جمعہ کے وجوب ادا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ  وہ جگہ شہر ہو یا توابع شہر میں سے ہو یا بڑا گاؤں ہو ۔شہر  کی تعریف فقہائے کرام نے اپنے اپنے وقت اور حالات کے مطابق مختلف عبارات سے کی ہے ۔ موجودہ دور میں جس گاؤں کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور روز مرہ کی ضروریات اس میں میسر ہوں وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا ۔ 

صورت مسئولہ کے مطابق  اگرمذکورہ علاقہ کی آبادی 3778افراد پر مشتمل ہواور روزمرہ کی سہولیات بھی میسر ہوں تو اس میں نماز جمعہ پڑهنا جائز ہے۔

 

(ويشترط لصحتها)سبعة أشياء الأول(المصر)...(أوفناؤه)بكسرالفاء(وهوما)حوله(اتصل به)أولا(لأجل مصالحه)كدفن الموتى وركض الخيل ۔۔۔( الدر المختار ، کتاب الصلوة ، باب الجمعة ، ج :1، ص: 109)

وعبارة القهستاني: تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الجمعة،ج:3 ص:6)   


فتویٰ نمبر : 10438/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں