بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

دوسری کرنسی میں قرض واپس کرنا


سوال

ایک پاکستانی شخص اگر دوسرے کو ڈالر میں قرض دےدے اور اس پر عرصہ گزر جائے اور ڈالر کی  قیمت میں اضافہ ہوجائے تو واپسی  کے وقت وہ ڈالر میں قرض وصول کرنے کا حق دار ہوگا یا پاکستانی کرنسی میں؟نیز اگر پاکستانی کرنسی  میں وصول کرے توکس دِن  کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟ 

جواب

واضح رہےکہ مقروض قرض کی واپسی  اسی  کرنسی میں  کرے گا جو اُس نے قرض لی تھی ۔ تاہم اگر قرض دار اور قرض خواہ دونوں دوسری کرنسی میں قرض کی واپسی پر رضامند ہوجائیں تو اس کی اجازت ہے البتہ دوسری کرنسی اس دن کے ریٹ کے حساب سے دی جائے گی جس دِن ادائیگی ہو رہی ہو ،اورجس مجلس میں اتفاق ہوجائے اسی مجلس میں اس  کرنسی پر قبضہ بھی ضروری ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق اگر پاکستانی  شخص کسی دوسرے  کو ڈالر میں  قرض  دے تو وہ قرض دار ڈالر میں ہی قرض واپس کرے گا  البتہ  اگر طرفین  پاکستانی کرنسی میں قرض کی واپسی پر راضی ہو جائیں تو اس کی بھی اجازت ہے  بشرطیکہ ادائیگی والے دِن کی قیمت لگائی جائے اور اُسی مجلس میں طے شدہ پاکستانی کرنسی  حوالہ کردی جائے۔

 

عن ابن عمر، قال: كنت أبيع الإبل بالبقيع فأبيع بالدنانير، وآخذ الدراهم وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانير، آخذ هذه من هذه وأعطي هذه من هذه فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو في بيت حفصة فقلت: يا رسول الله، رويدك أسألك إني أبيع الإبل بالبقيع فأبيع بالدنانير، وآخذ الدراهم وأبيع بالدراهم، وآخذ الدنانير آخذ هذه من هذه وأعطي هذه من هذه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شيء. (سنن أبي داود، كتاب البيوع، باب في اقتضاء الذهب من الورق، ج:3، ص:250)

فإن الديون تقضى بأمثالها.(ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الشرکة، مطلب في قبول قوله دفعت المال، ج:6،ص:495)

"فإذا كان ‌عقد ‌البيع ‌أو ‌القرض وقع على نوع معين منها كالريال الفرنجي مثلا فلا شبهة في أن الواجب دفع مثل ما وقع عليه البيع أو القرض."(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، باب الصرف، ج:1، ص:281)
"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟(الجواب): نعم ولاينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمداً من مجمع الفتاوى". (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، باب القرض، ج:1، ص:279)


فتویٰ نمبر : 3756/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں