بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

کچھ رقم ایڈوانس میں دے کر زیوربنوانا


سوال

ایک شخص دو تولہ سونا سنارسےبنواتاہے،اوراس کی قیمت چھ لاکھ روپےہے،چار لاکھ وہ ایڈوانس دیتاہےاوردولاکھ ایک مہینہ بعد دیتاہے،اب پوچھنایہ ہے کہ یہ معاملہ درست ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ کوئی چیز کاریگر سے تیار کروانا شرعی طور پر بیع استصناع کے زمرے میں آتا ہے ،اس کے جائزہونےکی شرط یہ ہے،کہ بنوائی جانے والی چیز کی جنس ، نوع اور وصف وغیرہ یوں بیان کر دیا جائے کہ جہالت باقی نہ رہے۔نیز یہ کہ اس چیز کے بنوانے میں لوگوں کا تعامل ہو،یونہی یہ بھی ضروری ہے،کہ اس زیورکی ایک معین قیمت طے کی جائے،لیکن  یہ ضروری نہیں کہ آرڈرکے وقت مکمل قیمت ادا کی جائے بلکہ باہمی رضامندی سے چاہیں تو کچھ رقم ایڈوانس دیدےاور باقی رہ جانے والی قیمت کوادھارکرلیں ،یونہی مکمل رقم اُدھاربھی کرسکتے ہیں۔

صورت مسئولہ میں آرڈرپرزیور تیارکرواناچونکہ عقد استصناع ہے، لہٰذا زیورات کاآرڈردیتے وقت سونے کا کریٹ،اس کاڈیزائن ،وزن وغیرہ اس طورپر طے کریں ،کہ کسی قسم کی جہالت باقی نہ رہے ۔اوراس زیورکی ایک معین قیمت بھی عقدکے وقت مقررکر لی جائے،لیکن مکمل قیمت ادا کرنا ضروری نہیں، بلکہ باہمی رضامندی  سےچاہیں توکچھ رقم ایڈوانس دیدے اور باقی رہ جانے والی قیمت کوادھارکرلیں ،یونہی مکمل رقم اُدھاربھی کرسکتے ہیں۔

 

الاستصناع جائز في كل ما جرى التعامل فيه كالقلنسوة والخف …وصورته أن يقول للخفاف اصنع لي خفا من أديمك يوافق رجلي ويريه رجله بكذا أو يقول للصائغ صغ لي خاتما من فضتك وبين وزنه وصفته بكذا.وكذا لو قال لسقاءٍأعطني شربةماء بفلس،أواحتجم بأجر،فإنه يجوزلتعامل الناس. (الفتاوى الهندية،كتاب البيوع الباب التاسع ،عشر في القرض، والإستقراض، والاٍستصناع ج:3،ص:195)۔

” لا يلزم في الاستصناع دفع الثمن حالا أي وقت العقد …فكما يكون الإستصناع صحيحا بالتعجيل يكون صحيحا بتأجيل بعض الثمن، أو كله“۔ (درر الحکام شرح مجلة الاحکام ،الفصل الرابع،في بيان الإستصناع، ج:1،ص:424۔)


فتویٰ نمبر : 3769/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں