بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بیوہ کاوالدین کے گھر میں عدت وفات گزارنا


سوال

ایک عورت پشاورمیں رہائش پذیر تھی اوراس کا شوہرفوت ہوا،تین دن تعزیت کے بعد عورت کہتی ہے کہ وہ اپنےوالدین کے گھر(کوہاٹ)میں عدت گزارے گی، کیونکہ پشاورمیں اس کو کچھ مشکلات درپیش ہیں،اوراس کے والدین بھی اس بات پر راضی ہیں کہ وہ ہمارےگھر میں عدت گزارے،تو کیا عورت کا اپنے والدین کے گھر میں عدت گزارنا جائزہے یا نہیں؟

جواب

جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس پر چار ماہ دس دن عدت گزارنا لازم ہے اور عدت اس گھر میں گزارے گی جس میں وہ شوہر کی زندگی میں اس کےساتھ رہتی تھی،بشرط یہ کہ وہاں پررہائش کی صورت میں  کوئی خطرہ نہ ہو، مثلاً: جان ،مال یا عزت کا خطرہ  نہ ہو ، بصورت دیگراس کے لیے کسی اور جگہ بندوبست کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر خاتون کو خاوند کے گھر میں عدت  گزارنے میں  کوئی خطرہ  ہو تو  اس کے لیے اپنے والد ین کے گھر عدت گزارنے کی گنجائش ہے ۔

 

(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ‌ولا ‌يخرجان ‌منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء ) ونحو ذلك من الضرورات.(ردالمحتار على الدرالمختار، ‌‌باب العدة، ‌‌فصل في الحداد،ج:٣،ص:٥٣٦)


فتویٰ نمبر : 7152/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں