بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

متعدد افراد پر چوری کا دعوی کرنا


سوال

زید راستے میں اپنی گاڑی کے ساتھ جارہا تھا کہ اچانک عمرونےچند دیگر بندوں کے ساتھ زید کو اٹھایا (یرغمال کردیا ) اورزید کی گاڑی وہاں چھوڑ دی چند دن بعد جب زید کو عمرو اوراس گروپ نے چھوڑ دیا اور زید نے گاڑی ڈھونڈ لی تو اسے خالی پایا اور کہنے لگا کہ جس وقت انہوں نے مجھے اٹھایا تھا تو اس وقت گاڑی میں کچھ قیمتی سامان تھا، اب زید مدعی ہوگیا کہ میرا سامان واپس کرو اورعمرو اوراس کے گروپ والے انکار کررہے ہیں کہ جس وقت ہم نے زید کو اٹھایا تھا گاڑی کوئی سامان نہیں تھا اب سوال یہ ہےکہ کیا شرعاً عمرو اوراس کے ساتھی اس سامان کے ضامن ہونگے جس کا زید دعوی کر رہا ہے یا عمرواوراس کے گروپ سے (انکار کی وجہ سے) حلف (قسم) لے کر چھوڑدیا جائے گا ؟

جواب

واضح رہے کہ دعوی ثابت ہونے کے تین صورتیں ہیں، پہلی یہ کہ مدعی علیہ خود اقرارکرے،دوسری یہ کہ مدعی قاضی کے سامنےگواہوں کے ذریعے اپنا دعوی ثابت کرےاورتیسری یہ کہ قاضی مدعی علیہ سے قسم لے اوروہ انکارکردے،تو مدعی علیہ پر وہ چیزلازم ہوجاتی ہے۔

    صورت مسؤلہ میں چونکہ مدعی  کئی لوگوں پر چوری کا دعوی کررہا ہے،حالانکہ مدعی کے پاس گواہ موجودنہیں اورنہ مدعی علیہ کی طرف سے اقرار پایا جارہا ہے،لہذا مدعی علیہ پرکچھ بھی لازم نہ ہوگا،البتہ مدعی ان سب کوقسم دے سکتا ہےاورحلف اٹھانے کی صورت میں وہ بری ہوجائیں گے۔

 

البينة ‌على ‌المدعي واليمين على من أنكر. (شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:٧٦،ص:٥١)

أحد أسباب الحكم أيضا اليمين أوالنكول عنه،فإذا أظهرالمدعي العجزعن إثبات دعواه حلف المدعى عليه بطلبه ....فإن حلف المدعى عليه قضى له ،وإن نكل قضى عليه.(شرح المجلة لسليم رستم باز،الكتاب الخامس عشرفي البينات والتحليف،المادة:١٧٤٢،ص:١٠٩٣).


فتویٰ نمبر : 6235/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں