بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 19/10/2026 |
دارالافتاء
جی پی فنڈ پر اضافی رقم لینے کا حکم
سوال
میں ایک سرکاری ملازم ہوں جب میں بھرتی ہوا تو میں کنٹریکٹ پر تھا، بعد میں مستقل ہوا تو میری تنخواہ سے حکومت کے قانون کے مطابق کٹوتی شروع ہوئی میں نے درخواست دےکر بند کروادیا۔ سال دوسال بعد کچھ علماء سے پوچھنے کے بعد دو بارہ کٹواناشروع کردیا۔ اب میں نے 80فیصد نکال لی جس کے ساتھ کچھ اضافی رقم بھی دی گئی تو کیا میرے لیے یہ رقم لینا جائز ہےیا نہیں؟ اگر نہیں تو اس اضافی رقم کا کیا کرو ں؟
جواب
واضح رہے کہ جی پی فنڈ میں سرکاری ملازمین سے جو رقم کاٹی جاتی ہے ،اگر یہ رقم ملازم سےجبرا کاٹی جاتی ہو اور ملازم قانونی مجبوری کے پیش نظر اس معاملہ میں مداخلت نہ کر سکتا ہوتو اس صورت میں جی پی فنڈمیں ملنے والی رقم (اصل رقم بمع اضافہ)ملازم کے لیے حلال ہے، اور اگر جی پی فنڈ کی کٹوتی اختیاری ہو،تو اس صورت میں یہ اضافی رقم لینا جائز نہیں ،نیزاگر کٹوتی تو جبرا ہو لیکن اس فنڈ کو سودی اکاؤنٹ میں جمع کرنےیا نہ کرنےکا ملازم یا ملازمین کی نمائندہ کمیٹی کو اختیار حاصل ہو ،تو ایسی صورت میں بھی اضافی رقم لیناشبہ ربوا کی وجہ سے جائز نہ ہوگا ۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل نے اختیاری طور پر کٹوتی کا کہا ہو اور سودی اکاؤنٹ میں جمع کرنے کا خانہ پُر کیا ہو تو ایسی صورت میں اس کو اصل حق سے زائد جو رقم ملی ہے وہ اس کے لیے حلال نہیں ، لہذا اس کو بلا نیت ثواب صدقہ کرے گا۔
عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء. (صحيح مسلم، باب لعن آكل الربا ومؤكله، رقم الحديث: 1598، ج:3، ص: 1219)
والنقدية أوجبت فضلا في المالية فتتحقق شبهة الربا وهي مانعة كالحقيقة. (الهداية،كتاب البيوع، باب الربا، ج:5، ص:178)
(قوله وعلله إلخ) علله الحانوتي بالتباعد عن شبهة الربا، لأنها في باب الربا ملحقة بالحقيقة. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الفرائض ،ج:6، ص: 757)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں