بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

مسبوق کے لئے بقیہ نماز میں قراءت کرنا


سوال

تین دوست سفر پر جا رہے ہیں۔ نماز کا وقت ہوا، دو دوست باوضو تھے انہوں نے نماز شروع کی تیسرا دوست وضو کیلئے گیا اور جب واپس آیا تو آخری قعدہ تھا۔ اب یہ تیسرا دوست سلام کے بعد جب کھڑا ہوگا تو قرات پڑھے گا یا نہیں؟

جواب

  امام کے سلام کے بعد مسبوق کی حیثیت منفرد کی ہوتی ہے ،چنانچہ بقیہ نماز میں پوری قراءت کرےگا۔

 صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر کوئی امام کے ساتھ آخری قعدے میں شامل ہوجائے ،تو امام کے سلام کے بعد وہ منفرد کی طرح نماز پڑھےگا ،یعنی پوری قراءت کرےگا۔

 

(والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ، وإن قرأ مع الإمام لعدم الاعتداد بها لكراهتها مفتاح السعادة (فيما يقضيه) أي بعد متابعته لإمامه، فلو قبلها فالأظهر الفساد، ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد۔

وفی رد المحتار:فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما، وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط، ولايقعد قبله وفي الفيض عن المستصفى: لو أدركه في ركعة الرباعي يقضي ركعتين بفاتحة وسورة، ثم يتشهد، ثم يأتي بالثالثة بفاتحة خاصة عند أبي حنيفة. وقالا: ركعة بفاتحة وسورة وتشهد، ثم ركعتين أولاهما بفاتحة وسورة، وثانيتهما بفاتحة خاصة اهـ. وظاهر كلامهم اعتماد قول محمد۔(الدر المختار مع رد المحتار ،فروع اقتداء متنفل بمتنفل ومن يرى الوتر واجبا بمن يراه سنة،ج:1،ص:597)


فتویٰ نمبر : 10436/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں