بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ کے طلبہ سے مالی جرمانہ لینا


سوال

غیرحاضری یا اور کسی قانون کے خلاف کرنےکی وجہ سے مدرسہ کے طالب العلم سے مالی جرمانہ وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ دارالعلوم دیوبند کے ویب سائٹ میں لکھا  ہے بقول مختار ناجائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ تعزیر بالمال(مالی جرمانہ) کے بارے میں فقہائے کرام کے اقوال مختلف ہیں ۔اکثر فقہائے احناف اس  کے   عدم جواز کے قائل ہیں، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے  اس کا جواز  منقول ہے،اور  موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے  امام ابو یوسف  کے قول کے مطابق  مالی جرمانہ مقرر کرنے کی گنجائش  معلوم ہوتی ہے،لیکن اس بات کا لحاظ رکھنا  ضروری ہے  کہ  مال  جرمانے کی مد میں لی ہوئی رقم اپنے پاس محفوظ رکھی جائے اور اصلاح   ہو جانے کے بعداسے واپس کیا جائے ،تاہم اگر غلطی کرنے والا شخص اپنی غلطی پر اصرار کرتا رہےاورجرمانہ وصولی کے بعددوبارہ واپس کرنے سے  مجرم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہوتو اس رقم کو مفاد عامہ میں استعمال کرنا بھی جائز ہے۔

صورت مسؤلہ  کے مطابق اگرتادیب کی نیت  سے وسعت کے بقدر  طلبہ  سے مالی جرمانہ وصول کیا جائےتو شرعا یہ جائز ہے،البتہ معلم خود اس کو استعمال نہیں کرسکتا، بلکہ بچوں کی اصلاح کے بعدان کو واپس لوٹا دے ،البتہ  جرمانہ کی  واپسی کی وجہ سےاگر  جرم کا سد باب مشکل ہو تو ایسی صورت میں اس رقم کو رفاہ عامہ میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے۔

 

وأفاد ‌في ‌البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى.(ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الحدود،باب التعزير،ج: 6،ص:106)

‌ يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ‌ومن ‌قال: ‌إن ‌العقوبة ‌المالية ‌منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته - صلى الله عليه وسلم - مبطل لدعوى نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ۔ولا إجماع يصحح دعواهم.(معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام، ص195: )


فتویٰ نمبر : 6214/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں