بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

لوگوں سے سورہ ملک پڑھوانے کی منت ماننا


سوال

اگر ایک شخص نے نذر مانی ہو کہ اللہ میری مراد پوری کرے تو میں دو ہزار مرتبہ سورہ ملک پڑھواؤں گا، تو کیا اس منت  کو پورا کیا جائے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نذر منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ نذر اللہ تعالیٰ کے نام کی ہو اور کسی ایسی چیز کی نذر مانی جائے جو عبادت مقصودہ ہو اور اس کی جنس سے فرض یا واجب ہو مثلاً نماز، روزہ ،حج وغیرہ۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص  نے یہ منت مانی ہو کہ" اللہ میری مراد پوری کرے تو میں دو ہزار مرتبہ سورہ ملک پڑھواؤں گا"چونکہ  دوسروں سے  سورہ ملک پڑھوانے کی جنس سے کوئی فرض یا واجب عبادت موجود نہیں اس لیے یہ نذر منعقد نہیں ہوئی ہے۔

 

(ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعاً لـ( البحر ) و ( الدرر) ( وهو عبادة مقصودة ) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط ) المعلق به (لزم الناذر)؛ لحديث: من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى، (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف) وإعتاق رقبة وحج ولو ماشياً؛ فإنها عبادات مقصودة ومن جنسها واجب لوجوب العتق في الكفارة والمشي للحج على القادر من أهل مكة والقعدة الأخيرة في الصلاة وهي لبث كالأعتكاف ووقف مسجد للمسلمين واجب على الإمام من بيت المال وإلا فعلى المسلمين (ولم يلزم) الناذر (ما ليس من جنسه فرض كعيادة مريض وتشييع جنازة ودخول مسجد) ولو مسجد الرسول صلى الله عليه وسلم أو الأقصى لأنه ليس من جنسها فرض مقصود وهذا هو الضابط.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الأيمان، ص:684)


فتویٰ نمبر : 10435/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں