بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

بناوضو قرآن پڑھانا


سوال

میں گورنمنٹ سکو ل میں ٹیچر ہوں،سکول میں کلاس پنجم تک کے بچوں کو قرآن پڑھانا ہوتا ہے۔کیا میرا اور بچوں کا وضو کرنا لازمی ہے۔جبکہ    سکول میں وضوکے لیے معقول نظام نہیں،گھر سے وضو کیا جائے تو کم  ازکم  ایک گھنٹہ پہلے وضو کرنا ہو گا ،اتنی دیر وضو میں رہنا مشکل ہے۔اب مجھے کیا کرناچا ہیے ؟

جواب

واضح رہے کہ بغیروضو قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں کیونکہ قرآن چھونے کے لئےباوضو ہونا ضروری ہے،البتہ زبانی تلاوت کرنے  کے لئے  باوضو ہونا ضروری نہیں۔اور بچے اگر بالغ نہ ہو  ں  تو بغیر وضو کے تلاوت بھی کر سکتےہیں اورقرآن مجیدکو ہاتھ بھی لگا سکتے ہیں،البتہ اگر ا ن کوبھی وضو کی عادت  ڈالی جائے  تو یہ اولی وافضل ہے۔  

 لہذا صورت مسئو لہ کے مطابق سائل کے لئے بے وضو ہونے کی حا لت میں قرآن پڑھانے ،یا قرآن کی تلاوت کرنے میں کو ئی قبا حت نہیں تا ہم قرآن پڑھاتے وقت قرآن کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کرناضروری ہےاوراگر قرآن مجید کو ہاتھ لگانا ضروری ہوتوپھر وضو کا اہتمام کرے۔اور نابالغ بچے اگر بےوضو ہوں تو ان کے لیے بے وضو ہونے کی حالت میں قرآن کو چھونا اور تلاوت کرنا  دونوں جائز ہے۔

 

ويباح له قراءة القرآن لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «كان لا يحجزه عن قراءة القرآن شيء إلا الجنابة.(بدائع الصنائع،کتاب الطھارۃ،فصل فی بیان ما ینقض الوضوء؛ج1،ص،266

(‌ولا) ‌يكره (‌مس ‌صبي ‌لمصحف ‌ولوح) ‌ولا ‌بأس ‌بدفعه ‌إليه ‌وطلبه ‌منه ‌للضرورة، ‌إذ ‌الحفظ ‌في ‌الصغر كالنقش في الحجر.(الدرالمختار علی صدرردالمحتار،کتاب الطھارۃ:ج 1،ص:315)


فتویٰ نمبر : 10430/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں