بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

جیکٹ کے اوپر کسی عورت کو چھونے سے حرمت مصاہرت کا ثبوت


سوال

ایک شادی شدہ لڑکا  جس کی عمر 22 سال ہے ،سردی کے موسم میں دھوپ لینے کے لیے ساس  کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گیا ،دونوں کی کمر آپس میں ملی ہوئی تھی لیکن ساس  کے کپڑے موٹے بھی تھے اور اس کے  اوپر جیکٹ بھی پہنا ہوا تھا، اس دوران لڑکے کو شہوت آئی  اور اس  میں مزید اضافہ بھی ہوتا رہا ،تو کیا اس  سےحرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

حرمت ِ مصاہرت ثابت ہونے کے لیےایک شرط یہ ہے کہ کوئی شخص کسی مشتہاۃ عورت(جس کی عمر نو سال سے زیادہ ہو)کوشہوت کے ساتھ چھولے یا بوسہ لےاور درمیان میں کوئی ایسا حائل کپڑا وغیرہ نہ ہو جو جسم کی حرارت کے لیے مانع ہو ، نیز چھوتے وقت جانبین کو یا کسی ایک جانب شہوت پیدا ہو۔ اوراگر درمیان میں ایسا حائل موجود ہوکہ اس کے ہوتے ہوئے جسم کی حرارت محسوس نہ ہوتی ہوتو حرمت  مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔

صور ت مسئولہ میں چونکہ عورت نے موٹے کپڑوں کے اوپر جیکٹ بھی پہنا ہواتھا اور عام طور پر جیکٹ کی موٹائی اتنی ہوتی ہےکہ اس میں جسم کی حرارت محسوس نہیں ہوتی اس لیے اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، لہذااس لڑکے کا نکاح بر قرار ہے ۔

 

(‌و) ‌حرم ‌أيضا ‌بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنى الوطئ الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة.قوله: (بحائل لا يمنع الحرارة) أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب۔(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب النكاح، فصل في المحرّمات، ج:4، ص:107-108)

‌‌ثم ‌المسّ ‌إنما ‌يوجب ‌حرمة ‌المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقاً لا يجد حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة، وإن انتشرت آلته إليه بذلك، وإن كان رقيقاً بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت حرمة المصاهرة.(المحيط البرهاني، كتاب النكاح، الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم، ج:3، ص:183)


فتویٰ نمبر : 7141/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں