بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا طلاق کو اپنے اجازت کے ساتھ معلق کرنا


سوال

طارق کی بیوی پارلر کا کام کرتی ہے، جس کی وجہ سے اسکے گھر میک اپ اور مہندی کے لیے عورتیں آتی ہیں، کچھ محلے کی عورتوں نے تقریباً 3 سال سے کام کروا رہی تھی پیسے نہیں دے رہی تھی جس کی وجہ سے روز گھر میں بحث ومباحثہ ہوتا کہ پیسے نہیں دیئے، طارق روز کی لڑائی سے تنگ آکر بولا اپنی بیوی کو کہ اب کی بار میری اجازت کے بغیر کسی کا فری میں کام کرکے دیا تو تین طلاق، اب طلاق معلق ہوگئ، بنا اجازت کے کام کیا تو طلاق واقع ہوگی اگر میاں خود دوبارہ یہ کہہ دے جس کام پر میں نےآپ کو میری اجازت لینے کا  پابند کیا تھا ، اب میں تمہیں پابند نہیں کرتا تمہیں اجازت ہے تم یہ کام کرسکتی ہو  ،تو کیا اب طلاق معلق رہے گی یا نہیں ؟

جواب

طلاق کوجب کسی شرط کےساتھ مشروط کیا جائے تو جب تک شرط واقع نہیں ہوتی طلاق واقع نہ ہوگی،تاہم اگر شوہر اپنی بیوی سے یہ کہے کہ اگر تم نے میری اجازت کے بغیریہ کام کیا تو تجھے طلاق ہےاور اس کے بعد وہ اسے اس کام کے کرنے کی کھلی اجازت دے دے تو اس صورت میں  تعلیق طلاق ختم ہو جائے گی۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر شوہر نے بیوی کو یہ کہا ہو کہ "اب کی بار میری اجازت کے بغیرکسی کا فری میں کام کرکے دیاتو  تین طلاق"اس کے بعد اگر  بیوی نے ابھی تک وہ کام نہ کیا ہواورشوہر اس سے کہہ دے کہ" جس کام پر میں نے آپ کو میری اجازت لینےکا پابند کیا تھا ، اب میں تمہیں پابند نہیں کرتا تمہیں اجازت ہے تم یہ کام کرسکتی ہو  "،تواس کے بعداگر  بیوی وہ کا کام کرے گی تو  طلاق واقع نہ ہوگی،نیز آئندہ  ہر مرتبہ متعلقہ کام کرنے کےلیے الگ الگ اجازت لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

 

وإذا  أضافه إلى الشرط،وقع عقيب الشرط إتفاقا ۔(الفتاوى الهنديه،كتاب الْطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن،وإذا وغيرها،ص:٤٨٨،ج:١)

(لا تخرجي) بغير إذني أو (إلا بإذني) أو بأمري أو بعلمي أو برضاي(شرط) للبر (لكل خروج إذن) إلا لغرق أو حرق أو فرقة ولو نوى الإذن مرة دين وتنحل يمينه بخروجها مرة بلا إذن، ولو قال: كلما خرجت فقد أذنت لك سقط إذنه، ولو نهاها بعد ذلك صح عند محمد وعليه الفتوى والولوالجية.(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الأيمان،باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان،ج:3،ص:758)


فتویٰ نمبر : 7144/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں