بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

امام کی تنخواہ مسجد کے فنڈ سے پوری کرنا


سوال

ہمارے علاقے میں امام کی تنخواہ محلے والوں پر مقرر ہوتی ہے اس طرح کہ ہر شادی شدہ  سے 300روپے وصول کرتے ہیں جو دس ہزار کل بن جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ جمعہ کے دن مسجد کے لئے چندہ اکھٹا کیا جاتا ہے ،چندہ دینے والوں کی کثیر تعداد دوسرے محلوں کی ہوتی ہے ،تو کیا اس فنڈ سے تنخواہ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جبکہ دس ہزار سے گزارہ نہ  ہوتا ہو اور نہ ہی اہل محلہ دلچسپی لیتے ہیں ؟ایک مفتی صاحب کہتے ہیں کہ ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ اہل محلہ نے تنخواہ الگ سے مقرر کی ہے جمعہ کا فنڈ تعمیر وغیرہ کے لئے دیتے ہیں نہ کہ امام کی تنخواہ کے لئے یہ ایسا ہے جیسے واقف تصریح کردے۔جبکہ دوسرا مفتی صاحب کہتے ہیں کہ جمعہ . کے فنڈ سے امام کے تنخواہ کو بڑھایا جاسکتا ہے کیونکہ امام مسجد کی بنیادی ضرورت ہے ۔واضح رہے کہ بعض اہل محلہ دس ہزار مقرر تنخواہ کے دینے میں بھی سستی کا شکار ہين۔کون سے مفتی صاحب کی بات درست ہے براہ کرم رہنمائی فرمائے۔

جواب

مسجد کے فنڈ میں جمع شدہ رقم مسجد کے مصالح  ہی میں خرچ کی جائے گی ،چونکہ مسجد کاامام  مسجد کے  مصالح میں سے ہے لہذا  امام مسجدکو مسجد کے فنڈ سے تنخواہ دینا جائز ہے۔صورت مسؤلہ میں جمعہ کے دن جو چندہ ہوتا ہے اس سےامام مسجد کی تنخواہ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

 

يبدأ من ارتفاع الوقف عمارته شرط الواقف أم لا، ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم بقدر كفايتهم۔(الفتاوی الهندية،کتاب الوقف،ج2،ص368)


فتویٰ نمبر : 6215/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں