بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ اورصدقات کی رقم کو فلاحی اداروں میں استعمال کرنا


سوال

میں ایک فلاحی ادارہ چلا رہا ہوں جس میں مستحق افراد کی مدد کے لیے مختلف منصوبے کیے جاتے ہیں، جیسے: ہینڈ پمپ، راشن کی تقسیم، وہیل چیئرز فراہم کرنا، وغیرہ۔ زیادہ تر ڈونرز اپنی زکوة یا صدقات کسی مخصوص مقصد کے لیے دیتے ہیں اور ہمیں انہی مقاصد کے تحت ان کی رقم استعمال کرنی پڑتی ہے۔ میری اپنی اور ٹیم کے ایک ہیلپر کی ضروریات بھی ہیں، لیکن ڈونرز کی طرف سے ہمیں انتظامی اخراجات یا تنخواہوں کے لیے کوئی مخصوص رقم نہیں ملتی۔ میں نے علماء سے معلوم کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ نفلی صدقات سے تنخواہ لینا جائز ہے، لیکن ایسا کوئی مستقل بندوبست نہیں ہے۔ اس صورت میں، کیا یہ جائز ہوگا کہ: 1۔ کسی پراجیکٹ (مثلاً ہینڈ پمپ، راشن، یا وہیل چیئر) کے لیے ہم ڈونرز کو کل اخراجات میں تھوڑا اضافہ کرکے بتائیں اور اضافی رقم تنظیم کے انتظامی اخراجات یا تنخواہوں کے لیے استعمال کریں؟ 2۔اگر یہ طریقہ جائز نہیں ہے تو انتظامی اخراجات اور تنخواہوں کا بندوبست کس طرح کیا جائے، تاکہ شرعی اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو؟ براہ کرم اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم اپنی فلاحی سرگرمیوں کو شریعت کے مطابق جاری رکھ سکیں۔

جواب

واضح رہے کہ فلاحی اداروں میں چندہ کی مد میں جو رقوم دی جاتی  ہیں ،وہ یاتو واجب التملیک ہوتی ہیں، جیسے: زکوۃ اور صدقات واجبہ ،یا غیر واجب التملیک ہوتی ہیں ،جیسے: صدقات نافلہ اور عطیات وغیرہ۔واجب التملیک  رقوم کے مستحق  غرباء اور مساکین ہیں ،لہذا مستحقین  کو مالک بنانے کے بعدوہ خود یا ادارے کو وکیل بناکر   ان رقوم کو فلاحی  کاموں ،جیسے  ہینڈ پمپ لگانے  ،راشن تقسیم کرنے  ،وہیل چیئر ز فراہم کرنےوغیرہ  میں استعمال کرسکتے ہیں،   جبکہ  زکوۃ کے علاوہ دیگر عطیات  اور صدقات میں چونکہ تملیک ضروری نہیں،  لہذاادارے کےمنتظمین ان صدقات وخیرات کوبراہ راست رفاہی کاموں میں استعمال کرسکتےہیں۔البتہ اگر ادارے کو زکواۃ  یا صدقات کی رقم  کسی معین  مصرف میں خرچ کرنے کےلیے وکیل بنایا جائے تو وکیل کےلیے موکل کے حکم کے خلاف کسی اور مصرف میں خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہے،اور نہ ہی غلط بیانی کرکےدھوکہ دہی سے  موکل سے پروجیکٹ کے  متوقع خرچ سے زیادہ مال لینا جائز ہے  ۔

لہذا صورت مسئولہ کےمطابق جوابات بالترتیب یہ ہیں :1۔ادارے کو جو رقوم متعین مصارف(ہینڈ پمپ ،راشن یا وہیل چیئر وغیرہ ) میں خرچ کرنے کےلیے دی جاتی ہیں،ان رقوم کو ان مصارف کے علاوہ میں خرچ کرنے کی گنجائش نہیں ،اور نہ ہی غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے موکل سے پروجیکٹ کے متوقع خرچ سے زیادہ لینا جائز ہے۔ 2۔انتظامی اخراجات یا تنخواہوں کےلیےنفلی صدقات جمع کیے جائیں، یا ڈونر کو صراحتاً انتظامی اخراجات یا منتظمین کی ضروریات کے بارے میں آگاہ کرکےنفلی صدقہ دینے کی  درخواست  کی جائے ۔

 

‌ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: ‌إذا ‌اؤتمن ‌خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر.(صحيح البخاري، كتاب الإیمان، باب علامة المنافق، ج:1،ص:21)

ولا ‌يجوز ‌أن ‌يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق، ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي. ولا يعطى للولد المنفي.(الفتاوى الهندية،كتاب الزکاة وفیه ثمانیة أبواب ،الباب السابع فی المصارف ،ج:1،ص: 188)

‌وقدمنا ‌أن ‌الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء، وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره، والظاهر: نعم.(الدر المختار ،کتاب الزکاۃ، باب المصرف،ص:137)

الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،مطلب فی زکوٰۃ ثمن المبیع وفاء، ج3، ص:189)


فتویٰ نمبر : 10450/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں